ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ایسی کوئی بات ہی نہیں جو چھپائیں، اسد عمر نے چین اور پاکستان کے درمیان لین دین کی تفصیلات آئی ایم ایف کو فراہم کرنے کا اعتراف کر لیا ڈالر کی قیمت اب کون طے کریگا؟ وزیر خزانہ نے قوم کے سامنے کھرا سچ رکھ دیا

datetime 17  دسمبر‬‮  2018 |

کراچی(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کو چینی قرضوں کی تفصیلات فراہم کردیں،چینی قرضوں کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں جو چھپائی جائے، امریکا نے جو سوال اٹھائے ان کے جواب دے دیے، عوام کے ریلیف کے لیے ایسے بہت سے اقدامات کررہے ہیں جن سے معیشت پر منفی اثر نہیں پڑے گا ،کرنسی کی قدر میں مزید کمی کے بارے میں

اسٹیٹ بینک ہی کوئی فیصلہ کرے گا۔ پیر کو وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کراچی سے اسلام آباد آتے ہوئے دورانِ پرواز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی اور حکومت کی مالیاتی پالیسی ہم آہنگ اور ایک ہی سمت میں گامزن ہیں، ضمنی بجٹ سے خسارہ کم کرنے میں مدد ملے گی، عوام کے لیے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر، انفرا اسٹرکچر منصوبے اور صنعت و برآمدات کو سہولتوں کی فراہمی ہماری ترجیحات ہیں، عوام کے ریلیف کے لیے ایسے بہت سے اقدامات کررہے ہیں جن سے معیشت پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔اسد عمر نے کہا کہ امریکا نے جو سوال اٹھائے ان کے جواب دے دیے، آئی ایم ایف کے بورڈ میں امریکی نمائندگی 16.5 فیصد ہے اور 83.5 فیصد دیگر ممالک ہیں، چینی قرضوں کے بارے میں ایسی کوئی چیز نہیں جسے چھپانے کی ضرورت ہو، ان کی تفصیل نہ چھپائی ہے اور نہ ہی چھپائی جاسکتی ہے، آئی ایم ایف کو چینی قرضوں کی تفصیلات فراہم کرچکے ہیں۔وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ خسارے پر قابو پانے کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسیع اور ٹیکس چوری پر قابو پایا جارہا ہے، ضمنی فنانس بل سے مالیاتی خسارہ پچھلے سال سے بہت کم رہے گا، کرنسی کی قدر میں مزید کمی کے بارے میں اسٹیٹ بینک ہی کوئی فیصلہ کرے گا، ایف بی آر کی بہتری کے لیے پالیسی اور ٹیکسوں میں ردوبدل پہلے دن سے جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…