عام انتخابات سے قبل ن لیگ میں گروپ بندی عروج پر پہنچ گئی،دوواضح دھڑوں میں تقسیم،قیادت میں جوڑ توڑ تیز،مرکزی قیادت بھی مخمصے کا شکار

  منگل‬‮ 13 مارچ‬‮ 2018  |  23:10

راولپنڈی ( آن لائن)رواں سال جولائی میں متوقع عام انتخابات کے نزدیک آتے ہی ملک کے دیگر حصوں کی طرح راولپنڈی میں بھی جہاں سیاسی سرگرمیاں اور گہما گہمی تیزہوگئی ہے وہیں پر راولپنڈی میں سیاسی گروپ بندی بھی میں بھی اضافہ ہو گیا ہے سینیٹر چوہدری تنویراحمد خان اور سابق رکن قومی اسمبلی محمدحنیف عباسی کی قیادت میں راولپنڈی مسلم لیگ دوواضح دھڑوں میں تقسیم ہونے سے مسلم لیگ ن راولپنڈی کی قیادت میں جوڑ توڑ تیز ہو گیا ہے جبکہمقامی قیادت کی باہمی چپقلش اور مخالفت کی وجہ سے مرکزی قیادت بھی مخمصے کا شکار ہو گئی ہے

دیرینہ اور سینئر لیگی کارکنان نے ان دھڑوں کو’’ نظریاتی‘‘ اور’’ موسمی‘‘ گروپوں کا نام دے دیا ہے جس سے شہر میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے لیگی کارکنان نے دونوں دھڑوں کو ماپنے کے لئے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا ورکرز کنونشن کے نام پر ہونے والے الگ الگ ’’پاور شو ‘‘کوبہترین پیمانہ قرار دیا ہے اس حوالے سے سرکردہ لیگی کارکنوں کا خیال ہے کہ بادی النظر میں اب مسلم لیگ ن کے اندر ’’پارٹی مفادات‘‘ اور’’ذاتی مفادات‘‘ کی سیاست کرنے والوں میں مقابلہ شروع ہو چکا ہے جس کے لئے دونوں دھڑے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں مفاد کی اس سیاست میں وہ لوگ پیش پیش ہیں جنہیں مسلم لیگ میں ایک دہائی کا عرصہ بھی نہیں ہواحلقہ بندیوں میں تبدیلی کے بعد چوہدری نثار گروپ کا حصہ سمجھے جانے والے رکن قومی اسمبلی ملک ابرار اپنے بھائی رکن صوبائی اسمبلی ملک افتخار سمیت صرف اس بنا پر حنیف عباسی کے ساتھ عملی طور پر شامل ہو چکے ہیں کیونکہ نئی حلقہ بندیوں کے بعد شہر کی6یونین کونسلیں ان کے حلقہ انتخاب میں شامل ہو چکی ہیں جس سے اب انکا مفاد حنیف عباسی سے وابستہ ہو گیا ہے لیگی کارکنان برملا اس امر کا اظہار کر رہے ہیں کہ9مارچ کو چوہدری تنویر کی میزبانی میں ان کی رہائش گاہ پر ہونے والے کنونشن میں چوہدری تنویر اور ان کے صاحبزادے بیرسٹر دانیال چوہدری کے علاوہ رکن قومی اسمبلی راجہ جاوید اخلاص ،رکن صوبائی اسمبلی شوکت بھٹی ، مسلم لیگ ن راولپنڈی کے جنرل سیکریٹری حاجی پرویز خان ،سابق نائب تحصیل ناظم سجاد خان ،مرکزی انجمن تاجران راولپنڈی (میر گروپ)کے صدر شرجیل میر،سینیٹروں اور وفاقی وزراکی شرکت کے باوجود کنونشن کے انعقاد میں ان میں سے کسی ایک کا بھی کوئی متحرک کردار نہ تھا جبکہ اس کنونشن میں اور کنونشن کے تمام انتظامات چوہدری تنویر کی تنہا کاوش تھی اور اس کنونشن میں شامل تمام لوگ سرکاری ملازمین کی بجائے اصل مسلم لیگی تھے جو نواز شریف کی محبت اور پارٹی وابستگی کی وجہ سے اپنی مرضی سے یہاں آئے تھےان شرکا میں بڑی تعداد ایسے کارکنوں کی تھی جو مشرف دورحکومت میں نامساعد حالات میں سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز کی قیادت اورچوہدری تنویر کی میزبانی میں راولپنڈی میں چلنے والی تحریک نجات کا ہر اول دستہ تھے جبکہ ایک بڑی تعداد ایسے سینئر کارکنان کی بھی تھی جو راولپنڈی شہر کی موجودہ قیادت کی اقربا پروری، بندر بانٹ اور امتیازی رویوں سمیت دیگر پالیسیوں کی وجہ سے نہ صرف ناراض تھے بلکہ پارٹی سرگرمیوں سے الگ تھلگ ہو چکے تھے جس کی واضح مثال مقامی یونین کونسل کے وائس چیئر مین مقبول احمد خان ، مسلم لیگ یوتھ ونگ کے مرکزی رہنما مرزا منصور بیگ اور تنویر شیخ کی کنونشن میں موجودگی تھی مقبول احمد خان کا شمارمسلم لیگ کے ان اعلیٰ تعلیم یافتہ متوالوں میں ہوتا ہے جوزمانہ طالبعلمی سے ن لیگ کے ہر اول دستے میں شامل ہیں لیکن کچھ عرصہ قبل شہر میں مبینہ طور پر چائینہ کٹنگ میں ملوث افراد کی جانب سے انہیں اغوا کرنے ،حبس بیجا میں رکھنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعہ پرحنیف عباسی اور میئر راولپنڈی سردار نسیم سمیت ن لیگ راولپنڈی کی قیادت مکمل خاموش رہی اور منتخب وائس چیئر مین ہونے کے باوجود پولیس نے ان کی درخواست پر مقدمہ تک درج نہ کیا جبکہ مقبول احمد خان شہر کی ترقی کے لئے فنڈز کی بند بانٹ کے خلاف وائس چیئرمین الائنس کے پلیٹ فارم سے بھی آواز اٹھائی تھی اسی طرح مرزا منصور بیگ اور شیخ تنویر بھی سینئر پارٹی کارکنوں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں حالیہ بلدیاتی انتخابات کے موقع پر ان کی شدید خواہش کے باوجود ٹکٹ سے محروم رکھا گیا بعد ازاں میئر راولپنڈی کی نااہلی کے لئے دائر پٹیشن میں پس پردہ یہی لوگ متحرک رہے تاہم چوہدری تنویرکی جانب عملی سیاست میں دوبارہ متحرک ہونے اور کنونشن کے انعقاد نے ن لیگ کے ایسے ٹکڑوں کو یکجا کر دیا جسے پارٹی کے لئے ایک نیک شگون قرار دیا جارہا ہے کارکنوں کی متفقہ رائے ہے کہ دانیال پیلس وہ جگہ ہے جس نے اسوقت سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز کے سر پر چادر رکھی تھی جب پرویز مشرف دور کے آغازمیں نامی گرامی لیگی قیادت زیر زمین چلی گئی تھی اور سابق وفاقی وزیرشیخ رشید احمد نے بھی کلثوم نواز کو لال حویلی آنے سے منع کر دیا تھا اس وقت چوہدری تنویر نے بیگم کلثوم نواز کے سر پر چادر اوڑھا کر انہیں اپنی بہن قرار دیا تھا اور دانیال پیلس میں بڑا کنونشن منعقد کروا کے کارکنوں کو حوصلہ دیا اور اس کنونشن سے ملک بھر میں تحریک نجات کا اعلان کیا گیا تھا موجودہ حالات میں چوہدری تنویر نے انتخابی پروگرام کے اعلان یا خواہش کے اظہار کی بجائے سوشل میڈیا ورکرز کنونشن کے کامیاب اجتماع کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف کی کال پر راولپنڈی میں ووٹ کے تقدس کی تحریک چلانے کا اعلان کیا جسے بلاتفریق لیگی کارکنوں میں سراہا جارہا ہے لیگی حلقوں کا یہ بھی کہناہے کہ چوہدری تنویر کی رہائش گاہ پر ہونے والے کنونشن میں نظم و ضبط کا بھی بہترین مظاہرہ کیا گیااور بلا تفریق تمام شرکا کو عزت واحترام دیا گیااس کنونشن میں سابقہ حلقہ این اے 56اور موجودہ این اے 62 راولپنڈی (vi)سے متعدد یونین کونسلوں کے چیئر مینوں ، وائس چیئر مینوں اور کونسلروں کی بڑی تعداد کنونشن میں موجود تھی جبکہ دوسری طرف لیگی کارکنان کاخیال ہے کہ 11مارچ کو حنیف عباسی کی قیادت میں فوارہ چوک (لیاقت روڈپر) ہونے والے کنونشن میں نہ صرف حنیف عباسی کے دھڑے میں نئے شامل ہونے والے رکن قومی اسمبلی ملک ابراراور ان کے بھائی رکن صوبائی اسمبلی ملک افتخار کے علاوہ میئر راولپنڈی سردار نسیم، رکن صوبائی اسمبلی راجہ حنیف ،خواتین اراکین اسمبلی زیب النسا اعوان اور لبنیٰ ریحان ،سابق رکن قومی اسمبلی ملک شکیل اعوان اور مرکزی انجمن تاجران (پراچہ گروپ) کے صدر شاہد غفور پراچہ پر مشتمل تمام شخصیات نے اپنے دائرہ اختیار میں کنونشن کامیاب بنانے کی پوری سعی کی لیکن کارکنوں کی مطلوبہ اور متوقع تعداد پوری نہ کر سکنے کے خدشے کے پیش نظر کنونشن کی جگہ لیاقت باغ کی بجائے فوارہ چوک رکھی گئی اس کے باوجود حنیف عباسی کے کنونشن میں حاضری حوصلہ افزا نہ تھی اس حوالے کارکنوں اس بات کا بھی کھلے عام اظہار کر رہے ہیں اس کنونشن کی تمام تیاریوں میں راولپنڈی ویسٹ منیجمنٹ کمپنی ، میونسپل کارپوریشن ، پی ایچ اے اور واسا راولپنڈی کے ملازمین کو نہ صرف استعمال کیا گیا بلکہ اتوار کے روز منعقدہ کنونشن میں شرکت یقینی بنانے کے لئے تمام مقامی اداروں کے ملازمین کی چھٹی منسوخ کر کے انہیں کنونشن میں شرکت یقینی بنانے کی زبانی ہدائیت کی گئی اس مقصد کے لئے آر ڈبلیو ایم سی اور پی ایچ اے کے ملازمین کی حاضریاں بھی لیاقت روڈ پر لگائی گئیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ2روز تک شہر کے گلی محلے گندگی کا ڈھیر بنے رہے اس کے باوجود لیاقت روڈ کا کنونشن انتہائی بدنظمی کا شکار رہا اور مریم نواز کے خطاب کے دوران تمام وقت لیگی کارکنوں اور پولیس میں جھڑپیں اور دھکم پیل جاری رہی اس موقع پر نہ صرف ایم ایس ایف پنجاب کے جنرل سیکریٹری مقبول احمد خان کو نہ صرف سٹیج سے دور رکھا گیا بلکہ خواجہ شہزادکی قیادت میں ایم ایس ایف کے کارکنوں نے عقب سے سٹیج پر چڑھنے میں ناکامی پر پولیس اہلکاروں کی رائفل بھی چھین لی اس دوران یہ کارکنان حنیف عباسی کو سخت لہجے میں آوازیں دیتے رہے اسی طرح جب سٹیج سے کنونشن میں شریک خواتین کے احترام اور انہیں کرسیوں پر جگہ دینے کی تلقین کی جارہی تھی عین اسی وقت نہ صرف چوہدری تنویر کے کنونشن میں شرکت کی پاداش میں خاتون رکن صوبائی اسمبلی تحسین فواد کو سٹیج سے نیچے اتار دیا گیا بلکہ مریم نواز کے پاؤں کے نیچے سٹیج کے ساتھ پولیس اہلکار ایک خاتون کو دھکے دیتے ہوئے اس سے چھینا جھپٹی کر رہے تھے جسے دھکے دے کر پنڈال سے باہر نکال دیا گیا لیگی کارکنوں کا کہنا ہے کہ بلاشبہ حنیف عباسی نے گزشتہ عرصے میں راولپنڈی میں میٹرو بس سروس ،کارڈیالوجی سینٹر، یورالوجی سینٹر،فلائی اوورزاور کھیلوں کے منصوبوں کے علاوہ پارکوں سمیت متعددبڑے ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچائے لیکن اصل میں یہ تمام منصوبے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے مرہون منت ہیںجبکہ دوسری جانب لیگی کارکنوں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ ن میں متعارف کروانے ، انہیں پارٹی ٹکٹ دلوانے اور راولپنڈی میں نمایاں مقام دلوانے کے ناطے حنیف عباسی کو چوہدری تنویر کی مخالفت زیب نہیں دیتی اور حنیف عباسی محض اپنی سیٹ بچانے کے لئے مسلم لیگ ن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں ان کارکنوں کا موقف ہے کہ حنیف عباسی خود اپنے دیرینہ ساتھیوں کو نظر انداز کر دیا ہے جس سے ان کے گرد ایسے خوشامدی ٹولے کا حصار ہے جنہیں پارٹی سے زیادہ اپنے مفادات مقدم ہیں اور ان کی سیاسی زندگی کے آغاز میں ان کے ساتھ کھڑے ہونے والوں میں سے ایک بھی اب موجود نہیں ہے حنیف عباسی کے حامیوں کا یہ بھی موقف ہے کہ سال2013کے عام انتخابات میں حنیف عباسی کی شکست کی بنیادی وجہ چوہدری تنویر تھے جس کے لئے انتخابات کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کی راولپنڈی میں حنیف عباسی کے گھر آمدکے موقع پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خود حنیف عباسی نے یہ کہا تھا کہ میں نے اپنی شکست کی وجوہات اور محرکات سے شہباز شریف کو آگاہ کر دیا ہے اب بار بار نام لینا ضروری نہیں تاہم موجودہ سیاسی صورتحال میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد اور تحریک انصاف سمیت مسلم لیگ ن کی مخالف قوتیں لیگی دھڑوں کی باہمی لڑائی سے لطف اندوز ہو رہی ہیں جن کا خیال ہے کہ وقت آنے پر یہ قوتیں ن لیگ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں