منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

شاہ محمودقریشی کا غرور،بے شمار دِل توڑ دیئے،شاہد خاقان عباسی تبدیلی لانے والے ہیں یا وکیل وزیراعظم ہیں؟جاوید چودھری کا تجزیہ‎

datetime 1  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (جاوید چودھری) شاہ محمود قریشی پاکستان کے چند بڑے معزز سیاستدانوں میں شامل ہیں‘ یہ خاندانی سیاستدان ہیں‘ ان کے والد مخدوم سجاد حسین قریشی گورنر پنجاب تھے‘ یہ زمین دار بھی ہیں‘ پڑھے لکھے بھی ہیں‘ خاندانی بھی ہیں‘ مہذب بھی ہیں اور ان پر کرپشن کا کوئی چارج بھی نہیں‘ یہ وزیر خارجہ بھی رہے‘ سیاستدان‘ عوام اور میڈیا تینوں ان کا احترام کرتے ہیں لیکن آج اس شاہ محمود قریشی کے رویے نے بے شمار دل توڑ دیئے‘

آج نومنتخب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی قومی اسمبلی میں ان سے ملنے کیلئے آگے بڑھے اور انہوں نے شاہ محمود قریشی کی قمیض پکڑ کر انہیں اپنی طرف متوجہ کیا لیکن شاہ صاحب نے وزیراعظم پاکستان سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا‘ یہ رویہ غلط ہے‘ یہ رویہ غیر تہذیب یافتہ بھی ہے اور اس سے غرور بھی جھلکتا ہے‘ آپ وزیر خارجہ تھے تو آپ پاکستان کے دشمنوں سے بھی ہاتھ ملا لیتے تھے‘ لیکن آج آپ نے پاکستان کے وزیراعظم کا اپنی طرف پھیلا ہاتھ جھٹک دیا‘ یہ غلط ہے اور شاہ محمود قریشی کو اس رویئے پر معذرت کرنی چاہیے۔ شاہد خاقان عباسی ملک کے وزیراعظم منتخب ہو چکے ہیں‘ یہ بظاہر 45 دن کیلئے وزیراعظم بنے ہیں لیکن انہوں نے 45 ماہ کا ایجنڈا دے دیا، عباسی صاحب شاید 45 دنوں میں یہ سارے کام سرانجام نہ دے سکیں تاہم یہ اگر ان میں سے کوئی ایک کام کر جائیں تو یہ 45 برسوں کیلئے مثال بن جائیں گے‘ لوگ ان کا حوالہ دے کر کہیں گے اگر نیت اچھی ہو تو تبدیلی لانے کیلئے 45 دن بھی کافی ہوتے ہیں اور اگر یہ ان میں سے کوئی کام نہ کر سکے تو پھر ثابت ہو جائے گا یہ ایک وکیل وزیراعظم تھے‘ یہ میاں نواز شریف کی وکالت کیلئے وزیراعظم بنائے گئے تھے اور دوسرا یہ صرف کرسی گرم کرنے کیلئے آئے تھے‘ نئے وزیراعظم 45 دنوں میں کیا کیا کر سکتے ہیں؟؟

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…