بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

بچوں کی پیدائش،پاکستانیوں نے ریکارڈ قائم کردیئے،2050ء میں کتنی آبادی ہوگی؟حیرت انگیز انکشاف

datetime 30  ستمبر‬‮  2016 |

لاہور ( این این آئی) صو با ئی و ز یر بہبو د آ با دی بیگم ذ کیہ شا ہنو از نے کہا ہے کہ آ با دی کے حجم میں بے ہنگم اضا فہ قد ر تی و سا ئل میں کمی کابا عث بن کر نہ صر ف معیا ر ز ند گی کو متا ثر کر تا ہے بلکہ بنیا د ی ضرو یا رت کی فرا ہمی میں مشکلا ت پید ا کر کے ز ندگی کو قا بل ر حم بنا د یتا ہے اور اس سے بچے و ما ں کی صحت سب سے زیا دہ متا ثر ہو تی ہے ،آ با دی کے اس پھیلا ؤ کو قا بو کر نے کے لئے حکو مت پنجا ب کی جا نب سے عملی اقدا ما ت اٹھا تے ہو ئے صو بے بھر میں پا پو لیشن و یلفےئر ڈ یپا ر نمنٹس کو ہر قسم کی سہو لیا ت جیسے ایس ایم یو ،مطلو بہ ادویا ت، ہیلتھ کئیر سینٹرز، لیڈ ی ہیلتھ و ر کرز و دیگر سٹا ف فرا ہم کر دیا گیاہے اور اس کے ساتھ ساتھ جد ید سا فٹ و ئیرز اور انڈ و را ئڈ سسٹم کے تحت تمام دفا تر کی کا ر کرد گی کی کڑ ی نگرا نی بھی کی جا ر ہی ہے تا کہ جس قد ر جلد ی ہو سکے ہم بڑ ھتی ہو ئی آ با دی کو ممکنہ حد تک کنٹر و ل کر سکیں۔ ان خیا لا ت کا اظہا ر انہو ں نے سر ینا ہو ٹل میں پا پو لیشن کو نسل کی جا نب سے منعقد ہ ایک آ گا ہی سیمینا ر لینڈ سکیپنگ آف فیملی پلا ننگ سیچو یشن ان پا کستان کے شر کا ء سے خطا ب کے دو را ن کیا۔سیمینا ر میں شہنا ز و زیر علی ایکس ایڈوا ئز ر پی ایم ، صو با ئی و ز یر کے پی کے شو کت یو سفز ئی، سیکر ٹر ی پا پو لیشن ویلفیئر پنجاب ڈا کٹر عصمت طا ہر ہ، ڈا کٹر عذ ر اٖفضل ، سینئر ایسو سی ایٹ اینڈ پا کستا ن کنٹر ی ڈا ئر یکٹر ز یبا ستا ر ، سو ل سو سا ئٹی کے نما ئندو ں اوہیلتھ کئیر افسرا ن کی بڑ ی تعداد نے شر کت کی۔شر کا ئے سیمینا ر سے خطا ب کر تے ہو ئے بیگم شہنا ز و زیر علی نے کہا کہ ایک اندا زے کے مطا بق 2050ء میں پا کستا ن کی آ با دی مو جو دہ سے د گنی ہو جا ئے گئی جو کہ ہم سب کے لئے ایک لمحہ فکر یہ ہے کیو نکہ پا کستا ن جیسا تر قی پذ یر ملک کی معیشت اس قد ر بو جھ بر دا شت کر نے کی پو ز یشن میں ہر گز نہیں ہے ایسے ہم سب کو اپنی سما جی ذ مہ دا ری کا احسا س کر تے ہو ئے اس ضمن میں فعا ل کردا ر ادا کر نے ہو گا اورجہا ں تک ہو سکے لوگو ں میں یہ پیغا م عا م کر نا ہے کہ فیملی پلا ننگ اور ما ں و بچے کی صحت کو ہر حا ل میں مقد م جا نتے ہو ئے ہمیں اپنے مستقبل کے با رے میں اقدا ما ت کر نے ہیں نیز ان کے د ما غ سے ایسے تما م تر و سو سے کہ فیملی پلا ننگ کے لئے اپنا ئے جا نے وا لے طر یقے مختلف پیچید گیو ں کا با عث بنتے ہیں اور دینی لحا ظ سے یہ در ست نہیں، ایسے تما م بے بنیا د خد شا ت کو بھی ختم کر نا ہے یہی و جہ ہے کہ پا پو لیشن و یلفئیر کی تما م تر سر گر میو ں میں د ینی سکا لرز کو خصو صی طو ر پر شا مل کیا جا ر ہا ہے تا کہ و ہ لو گو ں کے د ما غو ں کو تما م تر وسوسوں سے پا ک کر کے انہیں بر تھ سپیسنگ اوربر یسٹ فیڈ ینگ کے حو الے سے د ینی نقطہ نظر سے آ گا ہ کر یں۔ بیگم ذ کیہ شا ہنوا ز نے کہا کہ اس لحا ظ سے پنجا ب ایک خو ش قسمت شعبہ ہے کہ یہا ں کے و ز یر اعلیٰ نے معا ملے کی سنگینی کو سمجھتے ہو ئے پا پو لیشن و یلفےئر ڈ یپا ر نمنٹ کو ہر لحا ظ سے مضبو ط کیا اور انہیں ہر قسم کی مد دکی۔ پنجا ب میں اس و قت مذ کو ر ہ محکمے کو کسی قسم کی ما لی تنگی ، سٹا ف کی کمی، دوا ئیو ں کی فر اہمی جیسے مسا ئل کا سامنا نہیں ہے۔ اس و قت صو بے بھر میں 38 MSU آ پر یشنل ہیں اور ا س کے ساتھ ساتھ ہیلتھ کئیر سنٹر ز اور کلینکس کی وا فر مقدا ر مو جو د ہے اگر کسی چیز کی ضرو ر ت ہے تو وہ جذ بہ ہے۔ ہمیں اپنے اند ر اور اپنے ارد گرد لو گو ں میں بھی یہ جذ بہ بیدا ر کر نا ہے کہ اس ملک پر اور خو د پر اضا فی بو جھ نہ ڈا لیں اور بچو ں کی تعدا د اتنی ہی ر کھیں جن کو ہم بہتر معیا ر ز ند گی اور اچھی پرو ر ش دے سکتے ہیں تا کہ کل کو وہ بچے معا شر ے پر بو جھ ثا بت ہو نے کے بجا ئے فعا ل ر کن کے طو ر پر سا منے آ کرملکی تر قی میں اپنا کر دا ر ادا کر یں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…