بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

امید ہے نئی عسکری قیادت ملت و ریاست کے درمیان اعتمادکے فقدان کو ختم کریگی، عمران خان

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پاک فوج کی نئی قیادت کو عہدے سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ امید ہے نئی عسکری قیادت ملت و ریاست کے درمیان اعتمادکے فقدان کو ختم کریگی۔تفصیلات کے مطابق

گزشتہ روز جنرل سید عاصم منیر نے پاک فوج کے 17 ویں سپہ سالار کی حیثیت سے کمان سنبھالی تھی، سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی کمان ان کے سپرد کی تھی جبکہ گزشتہ ہفتے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کی ملٹری سروس سے ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل ساحر شمشاد مرزا نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے عہدے کا چارج سنبھال لیا تھا۔سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پاک فوج کی نئی قیادت کو عہدے سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور چیف آف آرمی اسٹاف کے منصب سنبھالنے پر جنرل ساحر شمشادمرزا اور جنرل سیّدعاصم منیر کو مبارکبادپیش کرتاہوں۔ اپنے بیان میں سابق وزیر اعظم نے کہا کہ امید ہے کہ نئی عسکری قیادت ملت وریاست کے درمیان گزشتہ 8 ماہ میں جنم لینے والے اعتمادکے فقدان کے خاتمے کی سبیل کریگی۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ریاست کی قوت عوام ہی سے کشید کی جاتی ہے۔سابق وزیر اعظم نے اپنے ٹوئٹ میں قائد اعظم محمد علی جناح کے مسلح افواج کے ساتھ کیے گئے خطاب کے الفاظ کو بھی شیئر کیا جس میں کہا گیا ہے کہ مت بھولیں کہ مسلح افواج قوم کی ملازم ہیں، آپ قوم کی پالیسی نہیں بناتے، پالیسیاں بنانا سویلینز کا کام ہے اور آپ وہی کام کریں جو آپ کے سپرد کیا گیا ہو۔دوسری جانب ایک نجی ٹی وی کے مطابق عمران خان نے اپنی ٹوئٹ میں قائداعظم کے خطاب کی غلط تاریخ لکھ دی۔چیئرمین پی ٹی آئی نے قائداعظم کے 14 جون 1948 کے خطاب کو 14 اگست 1947 کا خطاب قرار دیا جبکہ قائداعظم محمد علی جناح نے یہ خطاب 14جون 1948 کو آرمی اسٹاف کالج میں کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…