عمران خان کاملک بھر میں جلسے کرنے کا اعلان

  اتوار‬‮ 14 اگست‬‮ 2022  |  16:12

لاہور( این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ملک بھر میں جلسے کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کی طرح ایک بار پھر ملک کو توڑنے کی سازش ہو رہی ہے،آج قوم کے سامنے کہنا چاہتا ہوں ملک کی سب سے بڑی جماعت کو فوج کے سامنے کھڑا کرنے کی سازش کی جارہی ہے ،یہ ملک کے خلاف سازش ہے ،یہ بیرونی سازش کا حصہ ہے

جس کا مقصد ملک کو کمزور کرنا ہے ، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں اپنے ملک کی فوج کو کمزور ہونے دوں گا،میں چاہوں گا کہ میرے ملک کی فوج کمزور ہو ؟، اگر پاکستان کی فوج کمزور ہوتی ہے یہاں اتنی بیرونی سازشیں ہیں،میں بار بار کہہ بیٹھا ہو ں وہ چاہتے ہیںملک کے تین ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں ، عمران خان کبھی نہیں چاہے ملک کی فوج کبھی کمزور ہو ،یہ ستمبر میں بھگو ڑے نواز شریف کو واپس لانا چاہتے ہیں، یہ چاہتے ہیں عمران خان پر پابندی لگے اور پھر نواز شریف سے پابندی ہٹانے کے لئے بارگیننگ کی جائے ، جو بھی یہ سازش کر رہے ہیں کان کھول کر سن لو میں ڈیل نہیں کروں گا،میں اینٹی امریکن نہیں ہوں لیکن غلامی قبول نہیں کروں گا ۔ نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں جشن آزادی کی مناسبت سے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جس تعداد میں لوگ ہاکی اسٹیڈیم میں جشن آزادی منانے کے لئے آئے ہیں میں انہیں خوش آمدید کہتا ہوں۔ وہ ملک خوش قسمت ہے جس کی مائیں اور بہنیں آزادی کا جذبہ رکھتی ہیں جن میں شعور ہوتا ہے ۔ وہ ملک خوش قسمت ہے جس میں اس طرح کے جنونی با شعور نوجوان ہوتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ غلامی چار قسم کی ہوتی ہے ،قائد اعظم نے ہمیں ایک غلامی سے آزادی دلوائی ، قائد اعظم نے کہا کہ ہم انگریز کی غلامی سے نکل کر ہندوئوں کی غلامی میں نہیں جانا چاہتے ، ہم ایک آزاد ملک میں رہنا چاہتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ مسلمان ہمیشہ آزادی کے لئے جدوجہد کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ جب ضمیر کا سودا کرتے ہو تو آپ راہ حق سے ہٹتے ہو ،

غلام قوم کبھی اوپر نہیں آ سکتی ،یہ ملک بڑی قربانیوں کے بعد آزاد ہو اتھا، ہم غلامی اوراحساس کمتری سے نکلے نہیں ۔انہوںنے کہا کہ اسلام تلوار سے اسلام پھیلا یہ غلط فہمی ہے ، نبی کریم ﷺ کے دور میں دس سالوں میں جنگوں میں تیرہ سے چودہ سو لوگ مرے لیکن اسلام سارے عرب میں اسلام پھیل گیا

، وہ تلوار سے انقلاب نہیں آیا تھا وہ فکری انقلاب تھا ،ذہنوں کے اندر انقلاب آیا تھا۔ ہم نے نبی کریم ﷺ کی سیرت پر چلتے ہوئے ملک کے نواجونوں کو ذہنی طو ر پر آزاد کرنا ہے ، انہوںنے سب سے پہلے تعلیم پر زور دیا ،تعلیم کو عباد ت بنا دیا ، جہالت سے آزاد کیا ۔ ہمارے نبی کریم ﷺ نے خوف کی غلامی سے آزادی دلائی ،

خوف کی غلامی سب سے خوفناک غلامی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چھبیس سال سے میری کردار کشی کر رہے ہیں ، میرے خلاف کتابیں لکھوائیں ،بدنام کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ کی شان دیکھو آپ یہاںکس تعداد میں آئے ہوئے ہواور حوصلہ افزائی کر رہے ہو

۔اللہ نے قرآن میں لکھا ہوا ہے کہ عزت اور ذلت میرے ہاتھ میں ہے ،جو موت سے ڈرتا ہے اس نے آج تک بڑا کام نہیں کیا ،ہم عظیم لیڈر کی امت ہیں ،ہمیں چیونٹیوں کی طرح رینگنے کی ضرورت نہیں ، ہم کیوں دنیا کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک ہماری نوجوان نسل کو اپنی تاریخ کا پتہ نہیں چلے گا

،مغربی تہذیب چھائی رہے گی ،ہمارے بچے ان کی غلامی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ میں امریکہ کو بھی جانتا ہوں ، میںمغربی تہذیب کو بھی جانتا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ میں اینٹی امریکن نہیں ہوں لیکن میں کسی کی غلامی نہیں چاہتا ، میں کسی ملک کے خلاف نہیں ۔ میں ان کی نفسیات جانتا ہے اگر آپ ان کے پائوں میں گرتے ہیں وہ آپ کو استعمال کریں گے،اگر آپ ان کی چمچہ گیری کریں گے وہ آپ کی عزت نہیں کریں گے

،اگر آپ اپنے ملک کے مفادات کے لئے کھڑے ہوں گے یہ ان کو اچھا نہیں لگے گا لیکن یہ آپ کی عزت کریں گے،میں کسی ملک کا دشمن نہیں، لیکن میں غلامی نہیں چاہتا ۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس زندگی گزارنے کے لئے بہت پیسہ تھا ، میں ذاتی مفادا ت کے لئے سیاست میں نہیں آیا ۔ چھبیس سال اپنی زندگی کے سیاست میں گزارے اور گندے لوگوں کے ساتھ ماتھا لگائوں۔میں نے اپنے ملک میں احساس کمتری دیکھی ،

مجھے ہمیشہ افسوس ہوتا تھاکہ باہر سے گورا آتا تھا تو ہمارے حکمران اس کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ میری سوچ تھی کہ خدا کی ذات نے مجھے موقع دیا تو میں خود دار قوم بنائوں گا اور کسی کے سامنے جھکنے نہیں دوں گا۔ پاکستان کے حکمرانوں کی اپنی عزت نہیں تھی انہوں نے قوم کی عزت بھی مٹی میں ملا دی ۔یہ کہتے ہیں امریکہ نے ہمیں وینٹی لیٹر پر رکھا ہوا جب چاہے یہ وینٹی لیٹر کھینچ لے اور ہم مر جائیں گے

، بتائیںاس نوبت پر ملک کو کون لے کر آیا ہے ، تیس سال دو خاندان اس ملک پر حکومت کر رہے تھے ملک کو کس نے وینٹی لیٹر پر ڈالا ، پیسہ چوری کر کے باہر محلات بنائے ، بینک اکائونٹس بنائے اورقوم کو مقروض کر دیا اس کا کون ذمہ دار ہے ، پہلے ہمیں مقروض کیا اور اب کہتے ہیںہم نے امریکہ کی غلامی نہ کی تو ہم مر جائیں گے،جب ملک کا وزیر اعظم اور ملک کا وزیر دفاع یہ کہتے ہیں کہ امریکہ کے بغیر ہم جی نہیں سکتے تو پھر ہم سب کی کیا عزت کیا ہو گی،سبز پاسپورٹ کی دنیا میں کیا عزت ہو تی ۔

انہوںنے کہا کہ نواز شریف باراک اوبامہ کے سامنے اتنا گھبرا یا ہوا تھا کہ تھینک یو بھی پڑھ کر کہنا پڑا کہ کہیں آقا ناراض نہ ہو جائے ۔عمران خان نے کہا کہ ہم نے امریکہ کی غلامی کر کے بڑی بھاری قیمت اد اکی ہے ، میں امریکہ سے دوستی کر رہا تھا میں غلامی کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ میرے صدر ٹرمپ سے تعلقات ٹھیک تھے وہ واپس عزت دیتا تھا ، میں جب واشنگٹن گیا اس نے مجھے جتنا پروٹوکول دیا وہ کتنے اور وزرائے اعظم کو ملا ہے ۔وہ ان کی عزت کرتے ہیں جو اپنی عزت کراتے ہیں ۔

انہوںنے کہا کہ ہمارے ملک پر چار سو ڈرون حملے کئے گئے ، کون سا ملک اس کی اجازت دیتا ہے ، دہشتگردا لطاف حسین تیس سال سے برطانیہ میں بیٹھا ہوا ہے اس نے ہزاروں لوگ مروائے ،کیا برطانیہ پاکستان کو اجازت دے گا ہم اس پر ڈرون حملہ کریں ،وہ اجازت نہیں دیں گے۔ یہ کون ہوتے ہیں کہ جب فیصلہ کر کے جس کو مرضی ڈرون سے مار دیں، یہاں انہوں نے مدرسے پر حملہ کر کے 60بچے مار دئیے ،

یہاں چوہے بیٹھے ہوئے تھے جو یہ کہتے تم ظلم کر رہے ہو ،تحریک انصاف نے ڈرون حملوں کے خلاف دھرنے دیا ، ان کے منہ سے تو چوں نہیں نکلتی تھی کیونکہ ان کے اربوں ڈالر باہر پڑے تھے تھے اور انہیں ڈر تھا کہ ان کے پیسے ضبط کئے جا سکتے ہیں، انہوں نے ظلم ہونے دیا ، ہمیںٹشو پیپر کی طرح استعمال ہونے دیا ۔ میں اینٹی امریکن نہیں ہوں لیکن میںاپنے لوگوں کے مفادات کے اوپر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں ۔

امریکی سفارتکار ہمارے سفیر کو کہتا ہے کہ میں نے روس کا دورہ کیوں کیا، جب مجھے پتہ چلا تو میں نے فارن آفس کو کہا یہ ہوتے کون ہیں مجھے پوچھنے والے ،میں رو س گیا ہوں،کیا میں ان کا غلام ہوں ۔ میںروس اس لئے گیا تاکہ میرے لوگوں کا فائدہ تھا ، میں چاہتا تھاکہ میرے لوگوں کوسستا تیل ملے جو بھارت روس سے چالیس فیصد کم قیمت پر لے رہا ہے ، میں چاہتا تھاکہ ہم نے بیس لاکھ ٹن گندم خریدنی ہے ہم روس سے سستے داموں سے لیں ،میں نے صدر پیوٹن سے بات بھی کی وہ ہماری مدد کیلئے تیار تھے ۔

امریکہ ناراض ہواعمران خان کو ہٹا دو اس نے ہمارا حکم نہیں مانا۔بھارت امریکہ کا سٹریٹیجک اتحادی ہے ، جب امریکہ نے کہا آپ روس سے تیل نہ خریدیں تو انہوںنے کہا کہ تم کون ہوتے ہو ہمیں یہ کہنے والے ،یورپ ان سے تیل خرید رہا ہے ، ہمارے لوگوں کی ضرورت ہے ہم خریدیں گے،یہ ہوتا ہے آزاد ملک ۔ امپورٹڈ حکومت نے ہماری بات کو آگے نہیں بڑھایا کیونکہ ان کی ہمت نہیں تھی ۔ ہندوستان جو ہمارے ساتھ آزاد ہوا تھا

اس میں خود داری ہے وہ اپنی پالیسی خود بنا تے ہیں ہمارے کہتے ہیں ہم وینٹی لیٹرز پر ہیں ،میں اس غلامی کے خلاف ہوں ۔ میں واضح کر دوں اس قوم کو کبھی کسی کی غلامی نہیں کرنے دوں گا ،قوم کو اکٹھا کروں گا،ہم بحیثیت ایک قوم مل کر اپنے قرضے اتاریں گے،بحیثیت قوم مل کر اپنے پائوں پر کھڑے ہوں گے مشکل وقت گزاریں گے،آزادی آسانی نہیں ملتی ،اس جدوجہد میں قربانیاں دینا پڑتی ہیں ،مجھے پتہ ہے کہ میری قوم قربانی کے لئے تیار ہیں ۔انہوںنے کہا کہ اوپر وہ بیٹھے ہوئے ہیں جو پیسے کے غلام ہیں ،

حقیقی آزادی کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس امپورٹڈ حکومت کو فارغ نہیں کرتے اور انتخابات نہیں کراتے ، ہم مل کر اس ملک میں جدوجہد کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ شہباز گل کو اٹھا لیا گیا خیر وہ قانون کے سامنے جائے گا،ہر انسان کو موقع ملنا چاہیے وہ خود کو بے قصور ثابت کرے ، آج لوگوں پر خوف طاری کیا جارہا ہے ، یہ چاہتے ہیں کہ قوم ڈر کر خوفزدہ ہو کر ان کی دہشت کی وجہ سے چوروں اور ڈاکووئں کو قبول کر لے ، جو یہ سازشیں کر رہے ہیں کان کھول کر سن لو ،

تم اس قوم کو نہیں روک سکتے۔ میرا دل کہہ رہا ہے ان شا اللہ جب اگلی چودہ اگست ہو گی ہم اپنی حقیقی آزادی لے چکے ہوں گے۔ انہوںنے کہا کہ بیرونی سازش جن کے ساتھ ملک کے میر جعفر اورمیر صادق ملے ہوئے ہیں جنہوں نے ہماری حکومت گرائی ، ان کا خیال تھا کہ لوگ مٹھائیاں بانٹیں گے لیکن قوم سڑکوں پر آگئی ، کروڑوں لوگ سڑکوں پر نکلے ۔انہوںنے لوگوں پرخوف طاری کرنے کی کوشش کی ۔

پچیس مئی کو لوگوں کے گھروں میںداخل ہو کر ڈرایا ، تین لوگ شہید ہوئے ، یہ سمجھے تھے کہ لوگ سہم گئے ہیں لیکن جب پنجاب کے ضمنی انتخابات آئے تو قوم سرکوں پر نکل آئی ، دھاندلی کے باوجود ہم نے ان کو شکست دی پھینٹا لگایا ، انہوں نے انتظامیہ کو ساتھ ملایا امپائروں کوساتھ ملایا پولیس کا استعمال کیا ، سکندر سلطان جو ایک بد دیانت الیکشن کمشنر اس نے ان کی پوری مدد کی ،ہر قسم کی دھاندلی کی ، سکندر سلطان بزدل آدمی ہے ،اس کو پیچھے سے بوٹ پڑا جوتا پڑا اس نے پوری مدد کی ۔

انہوںنے کہا کہ اس کے بعد ایک نیا پلان بنایا ،عمران خان کے خلاف کیسز کرو ،الیکشن کمیشن میں ریفرنس بنائو ،توشہ خانہ کا کیس فنڈنگ کا کیس کرو تاکہ اسے کسی طرح نا اہل کرو ۔نواز شریف کو بلائو بھگوڑے کو بلائو جو جھوٹ بول کر باہر بھاگا ہوا ہے پھر یہ کہا جائے گاکہ ہم عمران خان کو بھی لڑنے دیں گے،نواز شریف سے پابندی ہٹائی جائے ،جو بھی سازش کر رہے وہ سن لیںعمران خان کوئی ڈیل نہیں کرے گا،میرا مقابلہ اس ڈاکو سے نہ کرو ،یہ تیس سال سے ملک کے پیسے چوری کر رہا ہے ،

اربوں روپے کی باہر کے ملکوں میںجائیدادیں لیں ، تیس سال سے ملک کا پیسہ باہر لے کر جارہا ہے ،عمران خان کو اوراس کو ایک ہی ترازو میں کھڑا کر دویہ نہیں ہو سکتا ۔ ان کی ستمبر کے آخر میں نواز شریف کو لانے کی کوشش ہے ۔ ، نواز شریف فکر نہ کرو میں تمہارا بہت اچھی طرح استقبال کروں گا۔

عمران خان نے کہا کہ دوسری سازشی یہ ہے کہ عمران خان پر کیسز ، کردار کشی کرو ، لفافوں والے ٹی وی اسٹیشن کے ذریعے عمران خان کی کردار کشی کرائی جارہی ہے ، اس کو نا اہل کرائو اور پھر وہ ٹی وی چینلز جو عمران خان کا چینل پیش کرتے ہیں ان کو بند کرو ، جس ٹی وی چینل کو بند کیا گیا ان کو کیا پتہ تھاکہ شہباز گل کیا کہہ دے گا اس کا قصور یہ تھا وہ عمران خان کا موقف پیش کرتا ہے ۔عمران خان نے کہا کہ ایک اور سازش چل رہی ہے کہ عدلیہ کو تقسیم کروتاکہ عدلیہ سے اپنے فیصلے کرائے جائیں ،

میڈیا کا منہ بند کرو ، ملک میں خوف پھیلائو ،عمران خان کی آواز بند کرو اور پھر ان چوروں کو ڈاکوئوں کو ہمارے اوپر مسلط کرو جو بیرونی ایجنڈا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سوچ ہے کہ عمران خان اور فوج کے درمیان ،تحریک انصاف اور فوج کے درمیان آپس میں لڑائی کرائی جائے ،آمنا سامنا کرایا جائے ۔مغربی پاکستان میں جو سب سے بڑی جماعت تھی اس کے خلاف ملٹری ایکشن شروع کیا گیا ، اتنا بڑا ظلم ہو اجو ملک ٹوٹا ، جب آپ فوج اور سب سے بڑی جماعت کا آمنا سامنا کراتے ہیں تو نقصان ملک کا ہوتا ہے

آج پھر وہی سازش ہو رہی ہے ۔ ہر قسم کا پراپیگنڈا کیا جارہا ہے ، کہتے ہیںعمران خان شہداء کے خلاف بات کر رہا ہے ، شرم کرو ، عمران خان وہ پاکستانی ہے اگر مجھے غلامی یا موت کو چننا پڑے تو مجھے موت پسند ہے ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں اپنے ملک کی فوج کو کمزور ہونے دوں گا،میں چاہوں گا کہ میرے ملک کی فوج کمزور ہو ؟، اگر پاکستان کی فوج کمزور ہوتی ہے یہاں اتنی بیرونی سازشیں ہیں۔میں بار بار کہہ بیٹھا ہو ں وہ چاہتے ہیںملک کے تین ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں ، عمران خان کبھی نہیں چاہے

ملک کی فوج کبھی کمزور ہو ،میں تو چاہتا ہوں یہ مضبوط ادارہ ہو ۔ ا نہوں نے کہا کہ جو لوگ آج اقتدار میں بیٹھے ہیں آج وہ ہمیں غدار کہہ رہے ہیں ،چوہے ہمیں غدار کہہ رہے ہیں۔ آج مہم چلائی جارہی ہے تحریک انصاف فوج کے خلاف ہے ، جو لوگ حقیقی آزادی چاہتے ہیں وہ ہمیشہ چاہیں گے ہماری فوج مضبوط ہو ۔ میں تنقید کرتا ہوں وہ تعمیری تنقید ہوتی ہے ، جس طرح باپ اپنے بچوں پر تنقید کرتا ہے ہے اصلاح کرنے کے لئے ۔انہوںنے کہا کہ جن کے بچے پیسے باہر عیدیں باہر علاج باہر وہ مجھے کہہ رہے ہیں

عمران خان غدار ہے ۔ میں آج قوم کے سامنے کہنا چاہتا ہوں ملک کی سب سے بڑی جماعت کو فوج کے سامنے کھڑا کرنے کی سازش کی جارہی ہے یہ ملک کے خلاف سازش ہے ،یہ بیرونی سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک کو کمزور کرنا ہے ، چوروں کو اسی لئے اوپر بٹھایا تھا تاکہ ملک کو کمزور کیا جائے ،چوروں کو اس لئے لائے تھے ان سے جو بھی چاہے کرا سکتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ میں نے عوام میں نکلنے کا فیصلہ کیا ہے ، میں لوگوں کے پاس جائوں گا ، اگلے ہفتے پنڈی میں جلسہ کرنے جارہا ہوں،

چند دنوں کے بعد کراچی جار ہاوہں، بڑی دیر سے موقع نہیں مل رہا زرداری کا صحیح معنوں میں مقابلہ کرنے کا ، وہ پاکستان کا سب سے بڑا لٹیرا ہے جس نے سندھ کی عوام سے ظلم کیا ہے ،سندھ کے لوگوں کو غلام بنایا ہوا ہے ، سکھرا کا منصوبہ ہے حیدرآباد ، اسلام آباد جارہا ہوں پشاور ، مردان جارہا ہوں، اٹک ،ایبٹ آباد،اس کے بعد ملتان،پھر بہاولپور،سرگودھا،جہلم،گجرات،فیصل آباد،گوجرانوالہ اورآخر میں کوئٹہ جائوں گا۔

انہوں نے کہا کہ میں عوام میں نکل رہا ہوں ، عوام کو تیار کر رہا ہوں ، ہماری حقیقی آزادی کی جنگ اپنے آخری اور فیصلے کن مرحلے پر ہے ، میری قوم تیار ہو جائو ، ساری پارٹی اور تنظیموںکو پیغام پہنچا دیا ہے کہ تیاری کریں ، نوجوانوں کی ٹائیگر فورس بنا ر ہاہوں جوتحریک پاکستان کی طرح گھرگھر جا کر حقیقی آزدای کی جدوجہد کا پیغام دے گی ۔



زیرو پوائنٹ

ہم کوئلے سے پٹرول کیوں نہیں بناتے؟

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎