پاک بحریہ نے بھارتی آبدوز کو پاکستانی سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیا

  منگل‬‮ 19 اکتوبر‬‮ 2021  |  14:21

کراچی(این این آئی)پاکستان بحریہ نے بھارتی آبدوز کا سراغ لگاتے ہوئے پاکستانی سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیاپاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق بھارتی سب میرین نے ایک مرتبہ پھر پاکستانی سمندری حدود میں گھسنے کی کوشش کی تاہم پاک بحریہ نےبھارتی بحریہ کے عزائم سمندر برد کردئیے۔تفصیلات کے مطابق افواج پاکستان نے بھارت کی ایک اور چال کو ناکام بنا کر اس کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے اور اس مرتبہ یہ کارنامہ پاک بحریہ نے انجام دیا ہے جس نے جاسوسی اور جنگی مقاصد سے چوری چھپے پاکستان کی


حدود میں گھسنے کی کوشش کرنے والی بھارتی آبدوز کو واپس جانے پر مجبور کر دیا۔16اکتوبر کو بھارتی آبدوز پاکستانی سمندری حدود کے قریب موجود تھی اور پاکستان بحریہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہوئے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھی تاہم پاک بحریہ کے طیارے نے پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے بھارتی آبدوز کا پتہ لگایا اور اسے پاکستانی حدود سے بین الاقوامی سمندر میں دھکیل دیا۔بھارتی بحریہ اپنی آبدوزوں کو پاکستان کے خلاف تعینات کر رہی ہے لیکن سمندری سرحدوں کے دفاع کیلئے پاک بحریہ ہر لمحہ مستعد و تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک بحریہ کی جانب سے پاکستان کی سمندری سرحدوں کی حفاظت کے لیے سخت نگرانی جاری ہے، یہ اپنی نوعیت کا تیسرا واقعہ ہے جس میں پی این لانگ رینج میری ٹائم پٹرول ایئر کرافٹ کے ذریعے بھارتی بحری آبدوز کا وقت سے پہلے سراغ لگایا گیا، حالیہ واقعہ مادر وطن کی سمندری سرحدوں کے دفاع کے لیے پاک بحریہ کے عزم کاعکاس ہے۔


زیرو پوائنٹ

پاکستان کے اصل ایٹمی اثاثے

سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ پاکستان کے بڑے ویلفیئر ٹرسٹس میں شمارہوتا ہے‘ یہ ادارہ مولانا بشیر قادری صاحب نے 1999میں بنایا تھا‘ ملک بھر میں سیلانی کے دستر خوان بھی چل رہے ہیں اور فلٹریشن پلانٹس بھی‘ یہ لوگ روزانہ ضرورت مندوں کو ایک کروڑ روپے کا کھانا کھلاتے ہیں۔فلٹریشن پلانٹس‘ جہیز فنڈز‘ اجتماعی شادیاں اور مفت ادویات اس کے علاوہ ....مزید پڑھئے‎

سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ پاکستان کے بڑے ویلفیئر ٹرسٹس میں شمارہوتا ہے‘ یہ ادارہ مولانا بشیر قادری صاحب نے 1999میں بنایا تھا‘ ملک بھر میں سیلانی کے دستر خوان بھی چل رہے ہیں اور فلٹریشن پلانٹس بھی‘ یہ لوگ روزانہ ضرورت مندوں کو ایک کروڑ روپے کا کھانا کھلاتے ہیں۔فلٹریشن پلانٹس‘ جہیز فنڈز‘ اجتماعی شادیاں اور مفت ادویات اس کے علاوہ ....مزید پڑھئے‎