انتظار طویل ہوگیا پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے کب تک انتظار کرنا ہوگا؟حکام نے بتا دیا

  منگل‬‮ 23 فروری‬‮ 2021  |  10:52

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف) کے ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کےلئے جون جولائی تک انتظار اور مزید کچھ کرنا ہوگا ، روزنامہ جنگ میں رضا چوہدری کی خبر کے مطابق  ایف اے ٹی ایف کا 3روزہ ورچوئل اجلاس شروع ہو گیا، حالیہ اجلاسمیں منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے خلاف پاکستان سمیت مختلف ممالک کی جانب سے کیےگئے اقدامات کا جائزہ لیا جائےگا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی طرف چھ (6 )نکات پر عمل درآمد کی رپورٹ ایف اے ٹی ایف کو پہنچ


چکی ہے ورچوئل اجلاس کی وجہ اجلاس میں نمائندگی کےلئے کسی ملک سے وفود پیرس نہیں آئے اجلاس میں پاکستان کی طرف 27 میں 21 نکات پر عمل درآمد کے اقدامات کی ایف اے ٹی ایف پہلے ہی تعریف کر چکا ہے۔مگر اس کے باوجود ان نکات پر عملی طور پر کاروائی اور سزا جزا کی حالیہ رپورٹ کا جائزہ لیا جائے گا۔ ایف اے ٹی ایف کے ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں صرف سفارشات تیار ہوں جن کی منظور آئندہ جون جولائی کے اجلاس میں دی جائے گی، اس وقت پاکستان کا نام گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کے امکان ہیں کیونکہ ان اقدامات سے بلیک لسٹ کا خطرہ ٹل چکا ہے جبکہ پاکستانی پرامید ہیں کہ اگر نکات پر عمل درآمد کو میرٹ بنا کر فیصلہ ہوا تو پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکال دیا جائےگا مگر جون 2021 کے اجلاس پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھا جائےگالیکن کسی صورت پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ اجلاس کے فیصلوں کا اعلان 25 فروری کو کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ پاکستان کا نام جون 2018 سے ایف اے ٹی ایف کی گِرے لسٹ میں شامل ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

نپولین فالٹ

نپولین بونا پارٹ 18 جون 1815ء کو واٹر لو میں آخری جنگ ہار گیا‘ فرانس کے عروج کا سورج ڈھل گیاتاہم نپولین گرتے گرتے برطانیہ کے تمام توسیع پسندانہ خواب چکنا چور کر گیا‘ انگریزوں کی ایسٹ انڈیا جیسی کمپنیاں دنیا کے درجنوں خطے ہڑپ کر چکی تھیں‘ بادشاہ کا خیال تھا یہ کام یابیاں انیسویں صدی کے آخر تک ....مزید پڑھئے‎

نپولین بونا پارٹ 18 جون 1815ء کو واٹر لو میں آخری جنگ ہار گیا‘ فرانس کے عروج کا سورج ڈھل گیاتاہم نپولین گرتے گرتے برطانیہ کے تمام توسیع پسندانہ خواب چکنا چور کر گیا‘ انگریزوں کی ایسٹ انڈیا جیسی کمپنیاں دنیا کے درجنوں خطے ہڑپ کر چکی تھیں‘ بادشاہ کا خیال تھا یہ کام یابیاں انیسویں صدی کے آخر تک ....مزید پڑھئے‎