ملک میں اچھا کام کرنے والوں کی قد ر نہیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے ریمارکس سب کی توجہ کا مرکز بن گئے

  ہفتہ‬‮ 6 جون‬‮ 2020  |  16:34

اسلام آباد(آن لائن) چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اس ملک میں اس کی کوئی قدر نہیں جو اچھاکام کرے ، صرف طاقتور کیلئے کام کیاجاتا ہے، لگتا ہے عدالتی فیصلوں پر عمل کرنا حکومتی ترجیحات شامل ہی نہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں ماحولیاتی آلودگی ختم کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کی تاہم وفاقی سیکریٹریز کے نمائندہ افسران پیش نہ ہوئے جس پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان، سیکرٹری ماحولیات اورچیئرمین


سی ڈی اے عامر علی احمد کو آئندہ ہفتے ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔چیف جسٹس نے نمائندہ سی ڈی اے سے استفسار کیا کہ سی ڈی اے نے وائلڈ لائف کے لئے مختص پناہ گاہیں کیوں ختم کردیں؟ آپ نے اللہ کو جواب نہیں دینا ؟ ماسٹر پلان میں کمزور طبقے کے لیے کونسا سیکٹر بنا؟ جس مزدور نے اس شہر کو بنایا اس کے لیے اس شہر میں کوئی کچھ نہیں، سی ڈی اے کو پلاٹ الاٹمنٹ سے روکا تھا، بتایا جائے اب تک کتنے پلاٹ الاٹ ہوئے ؟ عدالت نے ایک کمیشن بنایا جس نے کسی سے ایک روپیہ نہیں لیا اور سفارشات تیار کیں۔ عدالت نے سی ڈی اے کو پلاٹ الاٹمنٹ سے روکا تھا بتایا جائے اب تک کتنے الاٹمنٹ ہوئی اس عدالت نے ایک کمیشن بنایا جس نے کسی سے ایک روپیہ بھی نہیں لیا اور سفارشات تیار کیں اسدعمر خود اْس کمیشن کا حصہ تھے جس نے اپنی رپورٹ تیار کی تھی کمیشن کی رپورٹ پر کسی بھی وزارت نے آج تک بات ہی نہیں کی۔چیف جسٹس نے دوران سماعت یہ بھی ریمارکس دیے کہ اس ملک میں اس کی کوئی قدر ہی نہیں جو اچھا کام کرے اس ملک میں صرف طاقتور کے لیے کام کیا جاتا ہے سی ڈی اے نے اسلام آباد میں لوگوں کو دربدر کردیا کمزور اور مزدور طبقے کے لیے کچھ نہیں ہوا عدالت نے حکم دیا کہ سی ڈی اے آئندہ ہفتے مکمل رپورٹ پیش کرے شہر میں سارے سیکٹرز کس کس طبقے کے لئے آباد ہوئے ۔ عدالت نے کیس کی سماعت اگلے ہفتے کی تک ملتوی کردی۔


موضوعات: