جمعہ‬‮ ، 06 ‬‮نومبر‬‮ 2026 

بھارت اور امریکہ کے ارادے ناکام، لداخ میں ہندوستانی توسیع پسند انہ عزائم چین کی وجہ سے خاک میں مل گئے

datetime 4  جون‬‮  2020 |

لداخ ( آن لائن)لداخ میں بھارتی حکومت کچھ عرصہ سے اپنی توسیع پسندانہ سرگرمیوں میں مصروف تھی۔لیکن چینیوں کے ہاتھوں ہزیمت کے بعد بھارت پسپا ہو گیا ہے۔ پاک چین باہمی تعاون نے ہندوستان اور امریکہ کے ارادوں کو ناکام بنایاہے ۔جس کے پاکستان کے حق میں دور رس نتائج برآمد ہوئے ہیں اور اس دو ٹوک اقدام نے علاقے میں پاکستان اور چین کے لئے مستقبل کی پریشانیوں کو ختم کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت نے طویل عرصہ سے ہمالیہ اور قراقرم کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کے درمیان دولت بیگ اولدائی ایک وسیع و عریض بے آب و گیاہ سرد ریگستان میں دولت بیگ کے نام سے ایک چھوٹا سا فوجی اڈہ قائم کر رکھاتھا جس کے بارے میں اہم بات یہ ہے کہ یہ قراقرم درے سے صرف 8 میل دور ہے جس سے گلگت تک آسانی سے رسائی فراہم ہوتی تھی۔یہ وسیع و عریض میدان ایک طرح کا قدرتی ہوائی مستقر ہے۔ بھارت فوج اب اس کو ہوائی پٹی کے طور پر استعمال کرتا ہے۔گذشتہ ایک سال میں ، ہندوستان نے اندرونی سڑک کے نیٹ ورک سے منسلک ہوکر اس اڈے کو اپ گریڈ کیا جس کے پاکستان اور سی پی ای سی کے لئے سنگین نتائج ہوسکتے تھے۔بھارت نے گذشتہ سال اکتوبر میں دربک۔ شیوک۔دولت بیگ تک سڑک تعمیر کی تھی۔ڈی بی او روڈ کو سب سیکٹر شمالی روڈ بھی کہا جاتا ہے ، یہ مشرقی لداخ میں ایک موسمی سڑک ہے جو چین کے ساتھ لائن آف ایکچول کنٹرول کے قریب ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق چین نے پچھلے دو ہفتوں میں ایک شاندار اقدام کیا ، اور گیلوان وادی کے اندر پانچ ہزار فوجیوں نے وادی کے مغربی کنارے پر قبضہ کرلیا جس میں نو تعمیر شدہ دربوک – شیوک – دولت بیگ روڈبھی شامل ہے۔ اب ہوائی راستے کے علاوہ دولت بیگ اڈے کو سپلائی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ۔

گیلوان ایک تنگ وادی ہے ، جس کا راستہ چینی فوج نے بند کر دیا ہے۔اس اقدام نے ہندوستانیوں کو ایک انتہائی سنگین الجھن میں ڈال دیا ہے کیونکہ بین الاقوامی کشیدگی میں اضافہ کے ساتھ چینی فوج کی مضبوط موجودگی کو دور کرنا فوجی طور پر بہت مشکل ہے۔ رپورٹ کے مطابق اہم بات یہ ہے کہ گلوان وادی ہندوستان کی جانب سے لائن آف ایکچول کنٹرول کے بالکل اندر موجود ہے اور اس کے باوجود ہندوستانی اس پر کوئی واویلا نہیں مچارہا جو ان کا معمول ہے۔ موجودہ صورتحال میں وادی گلوان کی اسٹریٹجک اہمیت کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔چینیوں کے ہاتھوں سپلائی روڈ پر قابو پانے کے بعد ،دولت بیگ اڈے کی اہمیت کو اب موثر طریقے سے صفر کردیا گیا ہے۔ یہ ایک بہت ہی مثبت پیشرفت ہے۔ پاک چین باہمی تعاون جس نے ہندوستان اور امریکہ کے ارادوں کو ناکام بنایا۔ اور اس کے پاکستان کے حق میں دور رس نتائج برآمد ہوئے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



قید بھی نعمت ہوتی ہے


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

سٹوڈنٹ لسٹ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

Mind The Gape

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مرنے کے علاوہ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…