بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

کرونا وائرس !آٹے کی قلت کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کرنے والوں کی آہنی ہاتھوں سے سرکوبی ، وزیراعظم نے بڑا حکم جاری کر دیا

datetime 3  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر بنایا گیا، یہ کورونا سے متعلق اقدامات کا پلیٹ فارم ہے جہاں ڈاکٹر فیصل نے وزیر اعظم کو کورونا سے متعلق تمام معلومات دیں جبکہ وزیر اعظم نے آرمی چیف اور تمام اداروں کی کاوشوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ قوم کو وبا سے بچانا ویراعظم کی اولین ترجیح ہے، تمام اداروں کے ساتھ مل کر

اقدامات کر رہے ہیں اور قومی حکمت عملی بنانے کے عمل میں مصروف ہیں، اس مقصد کے لیے صوبائی حکومتیں کورونا متاثرین کا ڈیٹا تشکیل دیں تاکہ مل کر حکمت عملی بنائیں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے متحد ہو کر اس چھپے دشمن کا مقابلہ کرنا ہے اور اسے شکست دینی ہے، کورونا کی وبا پر قابو پانے کے لیے باہمی تعاون کا فروغ، حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد اور آگاہی پیدا کرنے والی کوششوں اور کاوشوں کو تقویت دینے کے لیے یہ سینٹر فعال ہوا ہے اور اس سینٹر سے ہی ہم یکجہتی اور یکسوئی سے قومی بیانیہ سامنے لائیں گے۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیر اعظم نے اسمگلنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے، انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایات دیں کہ ذخیرہ مافیا کی سرکوبی کی جائے جبکہ اسد عمر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ورکنگ پلان دیں تاکہ عملدرآمد ہو۔انہوں نے کہا کہ آٹے کی قلت کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس سلسلے میں وزیر اعظم نے گندم کی کٹائی سے متعلق بروقت اقدامات کے لیے ہدایات کیں اور کہا ہے کہ آٹے کی قلت اور کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیر اعظم نے ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کرنے والوں کی آہنی ہاتھوں سے سرکوبی کرنے کی ہدایت جاری کی ہے،اس کی روک تھام کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…