جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

ماروی سرمد اور خلیل الرحمن قمر دونوں کے الفاظ اور رویے غلط تھے، دونوں کو کنٹرول کرنا ہوگا، میاں نواز شریف کی واپسی کا ایشو الجھتا چلا جا رہا ہے، حکومت اور اپوزیشن دونوں نے یہ گیند برطانیہ کی کورٹ میں پھینک دی، کیا یہ توہین عدالت نہیں، جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 4  مارچ‬‮  2020 |

اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کی سب سے بڑی سچائی، سب سے بڑی حقیقت ہے لیکن ہم میں سے آدھے سے زیادہ لوگ اس حقیقت یعنی اللہ کو بھی نہیں مانتے مگر اللہ تعالیٰ اس کے باوجود ان لوگوں کو زندہ رہنے، اپنے آپ کو مسترد کرنے اور دنیا کی بڑی بڑی سچائیوں سے اختلاف کرنے سمیت ان کے سارے حق دے رہا ہے،

اس کو کہتے ہیں برداشت، اس کو کہتے ہیں دوسروں کے وجود اور حق اختلاف کو تسلیم کرنا اور یہ اللہ کی سنت ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اس سنت کا احترام ختم ہوتا چلا جا رہا ہے، کل ملک میں دو خوف ناک واقعات پیش آئے، ایک ملک کے مقدس ترین جمہوری ایوان سینٹ میں پیش آیا اور دوسرا ٹیلی ویژن پر، میں ٹیلی ویژن کا واقعہ آپ کے سامنے پیش نہیں کرتا لیکن سینٹ میں کیا ہوا۔ ٹیلی ویژن پر ماروی سرمد اور خلیل الرحمن قمر کی گفتگو اس وقت تک پورا ملک دیکھ چکا ہے، یہ دونوں واقعات کیا ثابت کرتے ہیں، یہ ثابت کرتے ہیں ہمارے ملک، ہمارے معاشرے سے برداشت ختم ہو چکی ہے، آپ خود فیصلہ کیجیے جب سینٹ جیسے ادارے اور ٹیلی ویژن جیسے پلیٹ فارم دونوں عدم برداشت سے آلودہ ہو جائیں تو باقی معاشرے کی کیا حالت ہو گی، یہ نہیں ہونا چاہیے اور حکومت کو ان رویوں کا نوٹس بھی لینا چاہیے اور کوئی ایسی پالیسی بھی بنانی چاہیے جس کے ذریعے معاشرے کی برداشت میں اضافہ ہو، ماروی سرمد اور خلیل الرحمن قمر دونوں کے الفاظ اور رویے غلط تھے، دونوں کو کنٹرول کرنا ہوگا۔ میاں نواز شریف کی واپسی کا ایشو الجھتا چلا جا رہا ہے، حکومت اور اپوزیشن دونوں نے یہ گیند برطانیہ کی کورٹ میں پھینک دی‘ کیا یہ توہین عدالت نہیں۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…