ڈونلڈ ٹرمپ کا اسلام آباد بھی آنے کا امکان

  پیر‬‮ 24 فروری‬‮ 2020  |  13:05

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے ساتویں صدر ہیں جو آج بھارت کے دورے پر نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔رزنامہ جنگ میں شائع رپورٹ کے مطابق ان سے قبل 6امریکی صدور بھارت کا دورہ کر چکے ہیں۔اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ وہ اپنے دورہ بھارت کے بعد اسلام آباد کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔ 1959ء میں صدر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور پہلے امریکی صدر تھے جو بھارت کے دورے پر گئے تھے۔انہوں نے 9دسمبر سے 14 دسمبر تک بھارت کا دورہ کیا جہاں انہوں نے بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو اور صدر راجندر پرساد سے ملاقاتیں کی


تھیں۔انہوں نے اپنے دورہ بھارت کے دوران بھارتی پارلیمینٹ سے بھی خطاب کیا تھا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کا دورہ کرنے سے قبل صدر آئزن ہاور نے 7دسمبر سے9دسمبر تک پاکستان کا دورہ بھی کیا اور پاکستان کے صدر ایوب خان سے کراچی میں ملاقات کی۔وہ پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر تھے۔ پاکستان کے دورے کے اختتام پر وہ چند گھنٹوں کے لئے 9دسمبر کو ہی کابل گئے۔جہاں انہوں نے شاہ ظاہر شاہ سے ملاقات کی اور اسی روز بھارت چلے گئے۔ بھارت کا دورہ کرنے والے دوسرے امریکی صدر رچرڈ نکسن تھے۔انہوں نے31جولائی سے یکم اگست 1969 ء تک اپنے دورے کے دوران نئی دہلی میں بھارت کے قائم مقام صدر ہدایت اللہ اور وزیراعظم اندرا گاندھی سے ملاقات کی۔ ان کا دورہ کسی بھی امریکی صدر کا پہلا بھارت کااسٹیٹ وزٹ تھا۔اپنے دورہ بھارت کے احتتام پر صدر نکسن یکم اگست کو پاکستان پہنچے جہاں لاہور میں انہوں نے صدر یحییٰ خان سے اہم ملاقات کی اور 2اگست کو واپس امریکہ چلے گئے۔یہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد کسی بھی امریکی صدر کا بھارت کا پہلا دورہ تھا جب کہ اس سے قبل 1967ء میں امریکی صدر جانسن 23دسمبر1967ء کو ایک روزہ دورے پر کراچی پہنچے تھے جہاں انہوں نے صدر ایوب خان سے ملاقات کی تھی ۔جمی کارٹر تیسرے امریکی صدر تھے جنہوں نے بھارت کادورہ کیا۔یکم جنوری سے3 جنوری 1973ء تک وہ بھارت گئے جہاں انہوں نے صدر نیلم سنجیوا ریڈی اور وزیراعظم مرار جی ڈیسائی سے ملاقات کی جب کہ بھارتی پارلیمینٹ سے بھی خطاب کیا۔وہ بھارت کے دورے کے دوران نئی دہلی کے علاوہ دولت پور اور نصیر آباد بھی گئے۔ 2000ء میں صدر بل کلنٹن بھارت کے سات روزہ دورے پر19مارچ کو نئی دہلی پہنچے اس دورے کے دوران وہ آگرہ ،جے پور، حیدر آباد اور بمبئی بھی گئے۔ انہوں نے بھی بھارتی پارلیمینٹ سے خطاب کیا۔اپنے بھارت کے دورے کے دوران ہی 20مارچ کو صدر کلنٹن چند گھنٹوں کے لئے ڈھاکہ بھی گئے اور وہاں انہوں نے بنگلادیش کے صدر شہاب الدین اور وزیراعظم حسینہ واجد سے بھی ملاقات کی جب کہ اسی روز وہ بھارت واپس چلے گئے۔بھارت کے دورے کے بعد صدر کلنٹن امریکہ واپس جاتے ہوئے 25مارچ کوتھوڑی دیر کے لئے اسلام آباد رکے وہاں انہوں نے صدر رفیق تارڑ اور جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی اور اسی روز واپس امریکہ روانہ ہو گئے۔صدر جارج بش نے اپنے دورہ بھارت کا آغاز یکم مارچ 2006ء کو کیا لیکن بھارت جاتے ہوئے اسی روزوہ راستے میں افغانستان میں چند گھنٹوں کے لئے رکے اور وہاں کابل اور بگرام بھی گئے جہاں انہوں نے صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی۔جارج بش 3 مارچ تک بھارت میں رہے ۔اس دوران انہوں نے نئی دہلی میں وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ سے ملاقات کے علاوہ حیدرآباد میں امریکہ بھارت سول نیوکلیئر ڈیل پر دستخط کئے۔ بھارت کے دورے کے بعد صدر بش 3مارچ کو دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے جہاں ان کی ملاقات صدر پرویز مشرف سے ہوئی۔بارک اوباما پہلے امریکی صدر تھے جو اپنے دور صدارت میں دو بار بھارت پہنچےلیکن وہ پاکستان نہیں آئے۔انہوں نے پہلی بار 2010ء میں ممبئی اور نئی دہلی کا دورہ کیا ۔6سے 9نومبر تک جاری رہنے والے اس دورے کے دوران انہوں نے صدر پراتیبھا پاٹل اور وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ سے ملاقاتوں کے علاوہ مغل شہنشاہ ہمایوں کے مقبرے اور راج گھاٹ کا بھی دورہ کیا۔اوبامہ دوسری بار25 جنوری 2015کو نئی دہلی پہنچے جہاں انہوں نے بھارت کے یوم جمہوریہ کی تقریبات میں شرکت کی۔وہ 27جنوری کو امریکہ واپس چلے گئے۔صدر ٹرمپ پہلی بار بار کے دورے پر احمد آباد پہنچ رہے ہیں وہ آگرہ اور نئی دہلی بھی جائیں گے۔


موضوعات: