غیر ملکی سیاحوں کی آمد، بین الاقوامی کھیلوں کی تقاریب! انسداد دہشتگردی آپریشنز مستقبل کی کارروائیوں کیلئے ماڈل قرار

  ہفتہ‬‮ 22 فروری‬‮ 2020  |  14:24

اسلام آباد(این این آئی)حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے شروع کیے گئے پاک فوج کے آپریشن رد الفساد کے 3 سال مکمل ہونے پر اسے انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ’کامیاب ماڈل‘ قرار دیدیا۔میڈیا ر پورٹ رپورٹ کے مطابق آپریشن رد الفساد کے 3 برس مکمل ہونے پر حکومتی عہدیدار نے کہاکہ ملک میں معمولات زندگی بحال ہوگئے ہیں۔غیر ملکی سیاح پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، بین الاقوامی کھیلوں کی تقاریب منعقد ہورہی ہیں جبکہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا پانچواں ایڈیشن بھی مکمل طور پر پاکستان میں ہی پہلی مرتبہ


ہورہا ہے'۔حکام کے مطابق دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا بین الاقوامی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے جہاں برطانیہ اور امریکا نے حال ہی میں اپنی سفری ہدایات میں پاکستان کو بہتر قرار دیا جبکہ اقوام متحدہ نے سیکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اسلام آباد کو اپنے اہلکاروں کے لیے فیملی اسٹیشن قراردیا اور برٹش ایئرویز نے بھی پاکستان کے لیے اپنی پرواز بحال کیں۔خیال رہے کہ فوج نے آپریشن رد الفساد کا آغاز 22 فروری 2017 کو ملک کے پہلے دہشت گردی سے لڑنے کے آپریشن کے طور پر کیا تھا۔رد الفساد کا مقصد دہشت گردی کے مقامی خطرات سے نمٹنا دہشت گردی کے خلاف لڑائی سے حاصل فوائد کو مستحکم رکھنا اور سرحدوں کی سیکیورٹی کو مضضبوط بنانا ہے۔اس کارروائی کے چار عناصر، جس میں مسلح افواج کے تمام شعبوں، پیرا ملٹری آرگنائزیشنز، قانون نافذ کرنے والے عوامی اداروں اور انٹیلیجنس تنظیموں نے حصہ لیا تھا ان میں پنجاب میں آپریشنز، ملک کے دیگر حصوں میں آپریشنز، بارڈر مینیجمنٹ اور ہتھیاروں کا خاتمہ، دھماکوں پر کنٹرول شامل ہیں۔آپریشن کے اعدادوشمار بتاتے ہوئے ہوئے حکام کا کہنا تھا کہ انٹیلیجنس پر مبنی ایک لاکھ 49 ہزار سے زیادہ کاروائیاں کی گئیں، 3 ہزار8 سو سے زائد انتباہ جاری کی گئی تھیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے 4 سو کے قریب دہشت گرد حملوں کی وارننگز دی گئی تھیں۔عہدیدار نے کہا کہ کراچی، جس نے امن و امان کی صورتحال میں بہتری کی وجہ سے کرائم انڈیکس پر اپنی درجہ بندی کو بہتر بنایا ہے، کو کامیابی کی ایک بڑی کہانی کے طور پر اجاگر کیا گیا۔افغانستان کے ساتھ دہشت گردوں اور دیگر مجرموں کے ذریعہ سرحد پار سے غیر مجاز نقل و حرکت کی روک تھام کے لیے سرحد پر باڑ لگانے کا آغاز دہشت گردی کے خاتمے کی حکمت عملی کے ایک اہم جزو کے طور پر 2017 کے وسط میں کیا گیا تھا۔عہدیدار کے مطابق اب تک افغانستان کے ساتھ 2 ہزار 6 سو 11 کلومیٹر طویل سرحد پر ایک ہزار4 سو 50کلومیٹر طویل باڑ نصب کردی گئی ہے اور کل 8 سو 43سرحدی ٹاورز کی منصوبہ بندی کی گئی تھی جن میں سے 3 سو 43 مکمل ہوچکے ہیں جبکہ مزید ایک سو 61 زیر تعمیر ہیں۔فوجی عدالتیں جو ابتدائی طور پر سانحہ آرمی پبلک اسکول کے مشتبہ دہشت گردوں کے مقدمے کی سماعت کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم کی گئیں تھیں، سیاسی اتفاق رائے کی کمی کی وجہ سے حکومت اس قانون سازی کی تجدید میں ناکام ہونے کے بعد گزشتہ سال ختم ہوگئیں۔عہدیدار نے بتایا کہ فوجی ٹریبونلز نے 3 سو 44 دہشت گردوں کو سزائے موت سنائی جبکہ مزید 3 سو ایک کو قید کی مختلف سزائیں سنائی گئیں اور اس دوران دیگر 5 افراد کو بری کردیا گیا۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا نے کہا کہ حکومت کو انسداد دہشت گردی کی کوششوں پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔


موضوعات: