ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم کی توانائی کمپنی کو نادہندہ ہونے سے بچانے کیلئے مداخلت،تنازع حل کرادیا

datetime 16  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم آفس کی مداخلت پر پاور ڈویژن نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کمپنی (این جے ایچ پی سی ) کو نادہندہ ہونے سے بچانے کے لیے پاور پرچیس ایگریمنٹ (پی پی اے ) پر باقاعدہ دستخط سے متعلق تنازع حل کردیا۔

رپورٹ کے مطابق 510 ارب روپے مالیت کے پاور پروجیکٹ نے گزشتہ برس اگست میں 969 میگاواٹ پیداواری صلاحیت حاصل کی تھی اور تب سے لے کر اب تک کسی ادائیگی کے بغیر نیشنل گرڈ کو بجلی فراہم کررہا ہے۔سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) اور این جے ایچ پی سی کے درمیان پی پی اے پر دستخط نہ ہونے کا نتیجہ 75 ارب روپے کے گردشی قرضے کی صورت میں نکلا ہے۔مختلف اعلی عہدیداران سے حالیہ ملاقاتوں میں این جے ایچ پی سی کے چیف ایگزیکٹو افسر بریگیڈیئر محمد زرین نے خبردار کیا تھا واجبات کی عدم ادائیگی کی صورت میں حکومت کو سنگین سیاسی، مالی اور ساکھ سے متعلق خطرات ہوں گے۔تاخیری ادائیگیوں کی وجہ سے حکومت کو 75 ارب سے زائد گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے کنزیومر ٹیرف میں اضافہ کرنے کی ضرورت جبکہ حکومت اور واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کو ڈیفالٹ ) سے کی ضمانتوں کو بے نقاب کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ وزیراعظم آفس نے مداخلت کی تھی اور پاور ڈویڑن کو جلد از جلد یہ معاملہ حل کرنے کی ہدایت کی تھی۔سیکریٹری پاور ڈویژن عرفان علی نے سی پی پی اور این جے ایچ پی کے نقطہ نظر سنے تھے جس کے بعد سی پی پی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس ہوا تھا۔

جس نے دونوں اداروں کے درمیان پی پی اے پر دستخط کی منظوری دی۔عہدیدار نے بتایا کہ دونوں فریقین نے اپنے قانونی ماہرین کی جانب سے جانچ پڑتال کے بعد رواں ہفتے پی پی اے پر دستخط پر اتفاق کیا ہے۔قبل ازیں این جے ایچ پی سی نے رپورٹ کیا تھا کہ اگر ایک ماہ میں توانائی کی ادائیگیاں شروع نہیں ہوتیں تو این جے ایچ پی سی، واپڈا اور حکومت پاکستان نادہندگان ہوجائیں گے کیونکہ شعبہ توانائی اپنے لائن لاسز میں کمی ظاہر کرنے کے لیے اس کے یونٹس کسی حساب کے بغیر استعمال کررہا ہے۔این جے ایچ پی س کے سی ای او نے 27 نومبر کو کہا تھا کہ ’اگر سینٹرل پاور پرچیز ایجنسی (سی پی پی اے) کی آمدنی دسمبر 2019 تک شروع نہیں ہوتی تو این جے ایچ پی سی، واپڈا اور حکومت پاکستان ناہندگان ہوجائیں گے کیونکہ متعلقہ فریقین متعدد مرتبہ ادائیگی کی گارنٹی دینے کے بعد بھی ناکام رہے علاوہ ازیں این جے ایچ پی سی روز مرہ کے مینٹیننس کی مد میں بھی اخراجات پورے کرنے میں ناکام رہی‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…