جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

مشرف دور میں بھی شیخ رشید نے ریلوے کا محکمہ تباہ کیا تھا،ٹرین حادثوں پر وزیر کے مستعفی ہونے کی مثالیں دینے والے عمران خان اب اپنے وزیر سے استعفیٰ مانگیں گے ؟ بلاول کا استفسار

datetime 11  جولائی  2019 |

سکھر(آن لائن) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے صادق آباد ٹرین حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے زیاں پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ ٹرین حادثوں پر وزیر کے مستعفی ہونے کی مثالیں دینے والے عمران خان اپنے وزیر سے استعفیٰ مانگیں گے ؟

انہوں نے سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیخ رشید کا وزارت سے رومانس ٹرین حادثوں میں نجانے کتنی انسانی زندگیاں نگلتا چلا جائے گا؟ چیئرمین پی پی پی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حادثے کی خبر سن کر انتہائی صدمہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ قیامت کی گھڑی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ٹرین حادثے معمول بنتے جارہے ہیں اور وزیر ریلوے کچھ نہیں کر پارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلوے کے وزیر بظاہر حادثوں کے مکمل ذمہ دار ہیں لہذا ان کے خلاف انکوائری ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ انکوائری مکمل ہونے تک شیخ رشید کو چاہیے کہ وہ وزارت سے مستعفی ہو جائیں۔چیئرمین پی پی پی نے الزام عائد کیا کہ جنرل مشرف کے دور میں بھی شیخ رشید نے ریلوے کا محکمہ تباہ کیا تھا جس کا خمیازہ جمہوری حکومتوں کو بھگتنا پڑا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب سے شیخ رشید وزیر ریلوے بنے ہیں اس وقت سے کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے ٹریک کی مرمت کے لیے ضروری سامان (سپلائی) تک مہیا نہیں کیا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے بڑے فخر کے ساتھ شیخ رشید کو ریلوے کی وزارت دی تھی لیکن آج خان صاحب کا یہ فیصلہ بھی غلط ثابت ہوگیا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے عمران خان اور شیخ رشید نے مل کر کئی ٹرینوں کا افتتاح کیا۔چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ کھڑی بوگیوں کو ملا کر نئی ٹرینیں چلانے والے عمران خان اورشیخ رشید صرف پوائنٹ اسکورنگ کے چکر میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ریلوے کی طرح ملک بھی چلا کر عوام کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی گئی ہیں۔چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری طور پر مالی امداد کا اعلان کرے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…