اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

صدر عارف علوی کا بھی بلاوا آگیا ہائیکورٹ نے دھماکہ خیز حکم جاری کردیا

datetime 21  مئی‬‮  2019 |

کراچی( آن لائن )سندھ ہائیکورٹ میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔صدر مملکت کی جانب سے جواب جمع نہ کروانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ سندھ ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عارف علوی کو 12 جون کو طلب کر لیا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ جواب جمع کروائیں پھر دیکھیں گے۔

واضح رہے سندھ ہائی کورٹ نے ڈاکٹر عارف علوی کے صدرِ مملکت منتخب ہونے کے خلاف دائر درخواست کو فوری سماعت کے لیے منظور کیا تھا ۔درخواست گزار عظمت ریحان نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر عارف علوی نے عدالتی ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کی۔انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عارف علوینے 1977 سے عدالت میں زیرِ سماعت کیس میں 3 مرتبہ اپنا حلف نامہ جمع کروایا اور انہوں نے تینوں مرتبہ اس میں غلط بیانی کی۔درخواست میں کہا گیا کہ ڈاکٹر عارف علوی نے دستاویزات جمع کرواکر ہاکس بے پر 1810 ایکڑ زمین کے کیس کا فیصلہ اپنے حق میں کروایا تھا، اور وہ ایک ٹرسٹ کے شریک ٹرسٹی بھی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس نے ڈاکٹر عارف علوی کے خلاف حکم نامہ جاری کیا تھا۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالتی ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کرنے ولا شخص پاکستان کا صدر نہیں بن سکتا۔سندھ ہائی کورٹ نے عظمت ریحان کی درخواست کو فوری سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو یکم جنوری تک جواب جمع کروانے کا حکم بھی دیا تھا۔درخواست کی سماعت پر عارف علوی کو کئی بار طلب کیا گیا تاہم ان کی طرف سے کوئی جواب جمع نہ کروایا گیا جس پر آج عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔

عظمت ریحان نے اپنی درخواست میں وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی )اور دیگر کو فریق بنایا ہے۔خیال رہے کہ 4 ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں ڈاکٹر عارف علوی 352 الیکٹورل ووٹ حاصل کرکے پاکستان کے 13 ویں صدر منتخب ہوئے تھے۔پاکستان تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان کے 13 ویں صدر کے عہدے کا حلف 9 ستمبر کو اٹھایا تھا۔ان سے قبل مسلم لیگ(ن)کے ممنون حسین صدارتی مدت پوری ہونے کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…