جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سرکار کی وجہ سے آج لوگ پریشان ہیں، چیف جسٹس بھی بول بڑے،دھماکہ خیز قدم اٹھانے کا اعلان کردیا

datetime 17  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد(اے این این ) چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے نجی اسکولز کی فیسوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت میں کہا کہ سرکار کی وجہ سے آج لوگ پریشان ہیں۔ سپریم کورٹ میں نجی اسکولز کی فیسوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

والدین کے وکیل فیصل صدیقی نے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ کے لارجر بنچ نے والدین کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے اسکولز کو صرف سالانہ پانچ فیصد اضافے کی اجازت دی، ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ نجی کاروبار پر حکومت مناسب پابندیاں لگا سکتی ہے۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا نجی کاروبار میں بنیادی حقوق کا نفاذ کیا جا سکتا ہے؟۔ والدین کے وکیل نے کہا کہ تعلیم بنیادی آئینی حق ہے، چند لوگوں کے مفاد کیلئے معاشرے کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ کئی سرکاری سکولز میں تو اساتذہ ہی نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ تعلیم اور صحت کبھی بھی حکومتوں کی ترجیح نہیں رہے، نجی اسکولز بند ہوئے تو تعلیمی نظام ہی بیٹھ جائے گا تاہم انہیں جائز منافع لینے کا پابند بنایا جا سکتا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ سارا معاملہ سرکار کی وجہ سے ہے، سرکار کی وجہ سے آج لوگ پریشان ہیں، ہم نے سرکار سے اس حوالے سے بہت کچھ پوچھنا ہے، ہمیں گلی محلوں میں قائم سرکاری اسکولوں کے اعداد و شمار چاہیں، گلی محلوں میں کتنے سرکاری اسکول ہیں اور ان میں کتنے ٹیچر ہیں،اب سرکاری سکولوں کا وہ معیار نہیں رہا، ٹیچر گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں لیتے ہیں۔والدین کے وکیل فیصل صدیقی کے دلائل مکمل ہوگئے جس پر کیس کی سماعت آج تک ملتوی کردی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…