انسپکٹر چاند نیازی بھی میرے اشاروں پر کام کرتا تھا، سرکاری سرپرستی میں قتل و غارت ، بھتہ خوری کا اعتراف، عزیر بلوچ کا اعترافی بیان حلفی عدالت میں پیش،سنسنی خیز انکشافات ، زرداری بری طرح پھنس گئے

  جمعہ‬‮ 7 دسمبر‬‮ 2018  |  13:31

کراچی(نیوز ڈیسک) رینجرز پراسیکیوٹر نے ارشد پپو قتل کیس میں عزیر بلوچ کا بیان حلفی سندھ ہائی کورٹ میں پیش کردیا،سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی افسر کی عدم حاضری پر سماعت ملتوی کردی، رینجرز پراسیکیوٹر نے عزیر بلوچ کا بیان حلفی عدالت میں پیش کردیا۔تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں ارشد پپو قتل کیس کی سماعت کے موقع پر ملزمان کی درخواست ضمانتمیں اہم پیش رفت ہوئی ہے، تفتیشی افسر عدالت میں پیش نہ ہوسکے۔عدالت نے کہا کہ پولیس کو ایک موقع اور دیتے ہیں ورنہ وارنٹ جاری کرسکتے ہیں، بعدا زاں سندھ ہائی کورٹ نے سماعت 16دسمبر

تک ملتوی کردی۔علاوہ ازیں رینجرز پراسیکیوٹر نے عزیربلوچ کا حلفیہ اعترافی بیان عدالت میں پیش کردیا، حلفیہ اعترافی بیان میں عذیر بلوچ نے سرکاری سرپرستی میں قتل وغارت گری، بھتہ خوری اور زمینوں پر قبضوں کا اعتراف کیا ہے، عزیر بلوچ کے اعترافی بیان میں کہا گیا ہے کہ انسپکٹر چاند نیازی بھی میرے اشاروں پر کام کرتا تھا۔دوسری جانب وکیل نے کہا کہ کسی گواہ نے ملزمان اور درخواست گزاروں کے خلاف گواہی نہیں دی ہے، پراسیکیوٹررینجرز ساجد محبوب نے کہا کہ یہ بیانات عزیر بلوچ کی گرفتاری سے پہلے کے ہیں، گرفتاری کے بعد صورتحال تبدیل ہوچکی ہے، عدالت نے سماعت 16دسمبر کیلئے ملتوی کردی۔واضح رہے کہ اس سے قبل نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے معروف صحافی رئوف کلاسرا کا کہنا تھا کہ عزیر بلوچ نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں پیپلزپارٹی کے کو چیئرمین آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور کو ماہانہ ایک کروڑ روپے بھتہ بھی دیتا تھا۔ رئوف کلاسرا کا کہنا تھا کہ لوگوں کو پتہ چلنا چاہئے کہ اس ملک میں جمہوریت کس بھائو بک رہی ہے، عزیر بلوچ ’ادی ‘فریال تالپور کو ماہانہ کتنے کروڑ روپے دیتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ آصف علی زرداری نے سندھ میں ایک لاکھ ایکڑ اراضی لے لی ہے جبکہ عزیر بلوچ نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے سندھ میں 14شوگر ملوں پر قبضے کروائے۔ رئوف کلاسرا کا کہنا تھا کہ یہ قبضے اس لئے کروائے جاتے تھے کہ جب لوگ ان سے قبضے چھڑوانے کی درخواست لے کر آتے تھے تو یہ انہیں تسلی دیکر کہتے تھےکہ ہم قبضہ چھڑواتے ہیں، معروف صحافی کا کہنا تھا کہ یہ لوگ قبضے بھی خود کرواتے تھے اور قبضے چھڑوانے کیلئے ٹیمیں بھی ان کی اپنی ہوتی تھیں، ان کا کہنا تھا کہ قبضہ چھڑوانے والا کام اب ایک کارپوریٹ سیکٹر کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔ رئوف کلاسرا کا کہنا تھا کہ قبضہ چھڑوانے کے عوض پیسوں کے بجائے مشورہ دیا جاتا تھا کہ شوگر مل فروخت کر دیں،جو شوگر مل 20کروڑ روپے میں بکنی ہوتی یہ کوڑھیوں کے دام 5کروڑ میں خرید لیتے، آصف زرداری یہ گیمز ڈالتے رہے ہیں جو عزیر بلوچ بتا رہا ہے اور اس بات کی تصدیق ذوالفقار مرزا کے آصف زرداری کے سندھ میں کئے جانے والے کاموں کے حوالے سے بیانات ہیں۔دوسری جانب جولائی میں پارٹی سیکرٹریٹ ’’انصاف ہاؤس‘‘ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےآج کے وفاقی وزیربرائے سمندری امور علی زیدی نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی رہنما منصورشیخ، بلال غفار، ارسلان تاج گھمن، اظہر لغاری، شہزاد قریشی اورعادل انصاری بھی موجود تھے۔علی زیدی نے کہا کہ میں اکتوبر میں کورٹ میں گیا تھا۔ میں نے بہت سوچا اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا۔ میں پریشان تھا کیونکہ الیکشن کی بات شروع ہوتے ہی ملک میں دھماکے شروع ہو گئے۔ میں جے آئی ٹیز کی کاپیاں میڈیا کو دے رہا ہوں۔پہلی جے آئی ٹی پر پولیس نے سائن کرنے سے انکار کردیا تھا۔ جے آئی ٹی کے پارٹ ٹو میں یہ لکھا ہوا ہے کہ عزیر بلوچ کس کے کہنے پر قتل کرتا تھا۔ اس میں لکھا ہے کہ کون کون ملوث تھا۔ عزیر بلوچ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہے۔ میں پوری پاکستانی قوم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایسے لوگ آپ کے حکمران رہے۔ لوگ چیف جسٹس کو روڈ پر ملتے ہیں وہ ان کا بھی سوموٹو لیتے ہیں۔ایس ایس پی اسپیشل برانچ، انٹیلی جنس بیورو، آئی ایس آئی، ایم آئی اور پاکستان رینجرز نے دستخط کیے ہیں۔ اگر ان دستخط کے کوئی معنی ہیں تو انہیں اہمیت کیوں نہیں دی گئی۔ دستخط کرنے والے کیا جھوٹ بول رہے تھے۔ ملک میں قتل کراؤ، لوٹ مارکرو اور جو جی چاہے کرو،یہ گزشتہ حکمران کرتے تھے۔ جے آئی ٹی کہتی ہے کہ پولیس والوں کے کہنے پر میں قتل کرواتا تھا۔ عزیر بلوچ کہتا ہےکہ میری مرضی کے تھانیدار لگائے جاتے تھے۔ نذیر پی پی پی کونسلر کومارا اور بغدادی پولیس اسٹیشن پر حملہ کروایا۔ قوم کو پتہ ہونا چاہئے لوگوں کو مروانے والے ووٹ مانگنے ان کے پاس آ رہے ہیں۔ میں ایک سال سے اکیلا کورٹ میں اپیل کر رہا ہوں۔ فریال تالپور، قادر پٹیل، ڈاکٹر نثار مورائی نے قتل کرنے کے لیے اسے سپروائز کیا ۔ملزم کے پاس غیر قانونی دستاویزات اور جھوٹی قومیت تھی۔عزیر بلوچ نے پورے شہر میں دہشت پھیلا رکھی تھی۔ ملزم کی مجرمانہ سپورٹ آصف علی زرداری اور ان کے سات قریبی سینئر پی پی کے لوگ کر رہے تھے۔ کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے یا مافیا ری پبلک ہے۔ سعید غنی میرے ساتھ ٹی وی شو میں کہہ چکے ہیں کہ میں نے جے آئی ٹی پڑھی ہے۔ میں نے پوچھا یہ ہائی کورٹ کے جج نے نہیں پڑھی، آپ نے کیسے پڑھی۔یہ مجرم اور قاتل لوگاسمبلی میں بیٹھ کر قانون سازی کرتے ہیں۔ ملک کو کون بچائے گا۔ یہ دوبارہ حکومت میں آجائیں گے اگر عوام بیدار نہ ہوئے۔ آصف علی زرداری کے کہنے پرنثار مورائی ٹارگٹ کلنگ کرتا تھا ۔آصف علی زرداری کی ایماء پراسٹیل مل کے سابق چیئرمین ساجد حسین کا قتل ہوا۔ عزیر بلوچ نے 198 قتل کیے ہیں۔ چیف جسٹس سے میری عاجزانہ اپیل ہے کہ ان جے آئی ٹیز پر سو موٹو لیں۔ ہر قانون نافذ کرنےوالا ادارہ کہتا ہے کہ یہ ملوث ہیں،اس پر سوموٹو لینا چاہئے۔ خدا سے ہماری دعا ہے قتل و غارت کی سیاست کرنے والوں سے جان چھڑائے۔ عدالت میں تو خلفائے راشدین بھی جواب دہ تھے۔ یہ لوگ عوام کے پیسے سے سیکورٹی لیتے ہیں اور عوام کو ہی مارتے ہیں۔ میں کورٹ گیا تو مجھے انصاف نہیں ملا، اب میڈیا میرے سامنے ہے۔ یہی کہتے تھے نا عوام کی عدالت بتائے گی، اب عوام بتائے۔میں نے حتمی طور پر سوچا کہ جے آئی ٹی عوام تک پہنچا دوں۔ میں سپریم کورٹ کے خلاف احتجاج کیا کروں گا،میں نے تو پہلے ہی کیس کیا ہوا ہے۔ ہر سیاسی جماعت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ الیکشن جیتے گی۔ شکر ہے پی پی والوں کو اتنی عقل تو آئی کہ سندھ تک رہے ،پورے پاکستان کی بات نہ کی۔ اگر یہی لوگ دوبارہ الیکشن لڑ رہے ہیں تو عوام کو بتا دینا چاہئے۔ میں نے تو اپنا فرض پورا کردیا، اب عوام کا اور چیف جسٹس کا کام ہے۔ میں جے آئی ٹی کی رپورٹ ساری دنیا کو دے رہا ہوں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں