’’آپریشن مڈنائٹ‘‘ پورے لاہور میں پولیس ساری رات ایساکیا کرتی رہی کہ سعد رفیق کو صبح 3بجے پریس کانفرنس بلانا پڑ گئی،نگران حکومت کو سنگین دھمکی دے ڈالی

  جمعرات‬‮ 12 جولائی‬‮ 2018  |  10:37

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور پولیس نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف رہنماؤں اور کارکنوں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا ، 100 سے زائد افراد کو دھر لیا گیا ، مقامی رہنما گرفتار بھی کیے گئے جس کے بعد لیگی کارکنوں کی جانب سے احتجاج شروع کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق رات گئے لاہور پولیس نے نواز شریف کے استقبال کے لیے جانے والے مسلم لیگ ن کے کارکنوں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا۔مسلم لیگ ن کے دفاتر پر جگہ جگہ چھاپے مارے گئے اور کئی مقامی رہنما گرفتار بھی کیے گئے جس کے بعد لیگی کارکنوں کی جانب سے

احتجاج جاری ہے۔حراست میں لیے گئے لیگی کارکنوں میں فیصل ٹاون تحفظ امن کمیٹی کے چیئرمین عاشرجٹ، کاہنہ سے مسلم لیگ ن کے وائس چیئرمین محمد شفقت، یو سی 98 چیرمین مزمل گجر، چیئرمین یوسی 78 سید عامر شاہ گلشن راوی، یو سی 48 کے چیئر مین چودھری محمد علی گجر، یو سی 59 کے چیئر مین محمد رفیق، یو سی 98 چیرمین مزمل گجر شامل ہیں۔اس کے علاوہ فیروزوالہ یوسی 2 مسلم لیگ ن کے چئیرمین شیخ کاشف، یوسی 4 کے ساجد چوہان اور جوہر ٹاؤن سے مسلم لیگ ن کے چئیرمین ملک نثار احمد کھوکھر کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے یو سی 33 یکی گیٹ وائس چیئرمین احمد رشید بٹ کے دفتر اور فیروزوالہ شاہدرہ پولیس نے مسلم لیگ ن کے چئیرمینز اور وائس چیئرمینز کے گھروں پر چھاپے مارے جب کہ مزید گرفتاریوں کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں ن لیگی کارکنان نے ٹائر جلا کر سڑکیں بند کردیں اور گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کیا۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہور شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیں گے۔ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے جب کہ شرپسند کارکنان کی نظربندی اور ضابطہ اخلاق پر عمل کے سخت احکامات دیئے گئے ہیں۔شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ داخلہ کی جانب سے شرپسند کارکنان کی نظربندی کیلئے فہرستیں تیار کی گئی ہیں جب کہ ضلعی انتظامیہ کو 300 افراد کو نظربند کرنے کا حکم دیا۔مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں خواجہ سعد رفیق ، سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گرفتاریوں کی شدید مذمت کی اور نگران حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے رہنماؤں اور کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ نگراں حکومت ہمارے کارکنوں کی گرفتاریاں بند کرے، نواز شریف کے استقبال میں رکاوٹیں کھڑیں کرنے سے حالات خراب ہو سکتے ہیں جس کے ذمہ دار وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے کریک ڈاؤن کا حکم جاری کیا، اس تمام کارروائی کے ذمہ دار نگراں وزیراعلی حسن عسکری ہیں، سمجھ نہیں آتا حکومت کو یہ احمقانہ حرکت کا کس نے کہا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمارے جن کارکنان کو گرفتار کیا ان کو رہا کیا جائے۔مسلم لیگ (ن)کے رہنما سعد رفیق کا کہنا تھا کہ 'نواز شریف کے استقبال کے لیے ہمارے کارکنان پر امن طور پر لاہور ایئرپورٹ جانا چاہتے ہیں مگر اچانک گرفتاریاں شروع کر دی گئیں اور 100 سے زائد رہنما اور کارکن گرفتار کیے جاچکے ہیں جبکہ انتظامیہ 300 سے زائد کی گرفتاری کے احکامات دے چکی ہے۔انہوں نے گرفتاریاں بند کرنے اور نگراں حکومت پنجاب اور وزیراعظم سے کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دوپہر تک کارکنوں کو رہا نہ کیا گیا تو اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں