پاکستان زندہ باد

  جمعہ‬‮ 6 مارچ‬‮ 2020  |  0:01

لارڈ ماﺅنٹ بیٹن ہندوستان کا آخری وائسرائے تھا‘ یہ مارچ 1947ءمیں آیا اور جون 1948ءتک ہندوستان میں رہا‘یہ بادشاہ جارج ششم کا کزن تھا‘وائسرائے ہندوستان روانہ ہونے سے پہلے سر ونسٹن چرچل سے ملاقات کے لیے گیا‘ چرچل دانش ور بھی تھا‘ سیاست دان بھی اور دوسری جنگ عظیم کا ہیرو بھی‘ چرچل نے لارڈ کو مشورہ دیا‘ تم ہندوستان جا کر تمام لیڈروں سے ملاقات کرو لیکن مہاتما گاندھی سے بچ کر رہنا‘ لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے حیرت سے پوچھا ”کیوں؟“۔

چرچل نے جواب دیا ”قدرت نے اسے قائل کرنے‘ دوسروں کو اپنے ساتھ ملانے کی بے تحاشا قوت دے رکھی ہے‘ مجھے خطرہ ہے تم اس سے ملو گے تو تم اس کے قائل ہو جاﺅ گے“ لارڈ ماﺅنٹ بیٹن خود بھی مقناطیسی شخصیت کا

مالک تھا‘ وہ مشکل سے مشکل لوگوں کو قائل بھی کر لیتا تھاچناں چہ اس نے قہقہہ لگایا اور ہندوستان آ گیا‘ وہ ہندوستان آیا‘ ہندوستانی لیڈروں سے ملا اور دو لیڈروں کی فراست اور سادگی نے اسے قائل کر لیا‘ پہلے لیڈر قائداعظم محمد علی جناح تھے اور دوسرے مہاتما گاندھی‘ وہ کہتا تھا قائداعظم کے دلائل اور ذہانت کا کوئی مقابلہ نہیں جب کہ مہاتما گاندھی کی سادگی اور موقف کی شفافیت دونوں لاجواب ہیں‘ وہ کہتا تھا یہ دونوں لیڈر ہندوستان میں امن چاہتے ہیں‘ یہ دونوں کشت وخون‘ جنگ وجدل اور مذہب اور کلچر کی بنیاد پر ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کے خلاف ہیں‘ دونوں کا مقصد ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے‘ قائداعظم محمد علی جناح کا خیال ہے مسلمانوں کو پاکستان اور ہندوﺅں کو بھارت دو ملکوں میں رکھ کر ہی امن قائم ہو سکتا ہے‘ ہندو اور مسلمان ایک دوسرے سے مختلف ہیں‘ یہ مرنے تک لڑتے رہیں گے لہٰذا دونوں کو الگ الگ سرحدوں میں رکھ دیا جائے جب کہ گاندھی کا خیال ہے ہندوستان تقسیم نہیں ہونا چاہیے‘ ہم ایک ایسا آئین اور سسٹم بنا لیتے ہیں جس میں ہندو‘ ہندو اور مسلمان مسلمان رہ کر زندگی گزار سکیں‘ یہ دونوں ایک دوسرے کے عقائد پر اثرانداز ہوئے بغیر اکٹھے رہ سکیں‘ لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کا خیال تھا یہ دونوںسیکولر لیڈر ہیں‘ قائداعظم ایک ایسا پاکستان بنانا چاہتے ہیں جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہو لیکن اقلیتوں کو مکمل حقوق حاصل ہوں۔

دوسری طرف گاندھی کا خیال ہے ہمارا انڈیا مکمل سیکولر ہو گا‘ اس میں کوئی شخص مذہب کی بنیاد پر کسی شخص پر انگلی نہیں اٹھا سکے گا‘ انڈیا کا ہر شہری صرف انڈین ہو گا‘ لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کا کہنا تھا میں نے دونوں کی رائے کا احترام کیا‘ قائداعظم کو مسلمانوں کا ملک دے دیا اور گاندھی کو ہندوﺅں کا انڈیا ‘ اقلیتیں دونوں کے پاس ہیں‘ پاکستان میں بھی ہندو‘ سکھ‘ عیسائی اور پارسی ہیں اور انڈیا میں بھی مسلمان‘ سکھ‘ عیسائی‘ پارسی اور بودھ ہیں‘ اب قائداعظم کا پاکستان جیتتا ہے یا پھر گاندھی کا یہ فیصلہ وقت کرے گا۔

لارڈ ماﺅنٹ بیٹن ہندوستان تقسیم کر کے برطانیہ چلا گیا لیکن انڈیا اور پاکستان کا نظریہ وقت کی لہروں پر آگے بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ آج 73برس ہو چکے ہیں‘ ان 73برسوں نے چند حقائق ثابت کر دیے‘ پہلی حقیقت پاکستان کی میچورٹی ہے‘ یہ درست ہم اقلیتوں کو وہ حقوق نہیں دے سکے جو قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کے ہندوﺅں‘ سکھوں‘ عیسائیوں اور پارسیوں کو دینا چاہتے تھے‘ یہ آج بھی خود کو پاکستان میں اجنبی محسوس کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ حقیقت ہے جتنا عدم تحفظ پاکستان کی سرحدوں کی دوسری طرف ہے ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

آپ بھارت میں دنگوں اور فسادات کی تاریخ دیکھ لیں‘ آپ کو گلیوں میں ناچتی وحشت قے پر مجبور کر دے گی‘1992ءمیں بابری مسجد شہید کر دی گئی‘ ایک مسجد نے کسی کا کیا بگاڑا تھا لیکن انتہا پسندوں نے گنبد پر چڑھ کر مسجد شہید کر دی‘ اس سانحے کو آج 28برس ہو چکے ہیں لیکن نفرت کی آگ نہیں بجھی‘ داﺅد ابراہیم ہو‘ چھوٹا شکیل ہو یا پھر یعقوب میمن جیسے مسلمان گینگسٹر ہوں یہ سب بابری مسجد اور انتہا پسندوں کی نفرت کا جواب ہیں‘ نریندر مودی نے 2002ءمیں گجرات میں کیا کیا ؟

دو ہزارمسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا‘ گھر‘ دکانیں اور گاڑیاں جلا دیں اور مسلمان خواتین کو گلیوں میں سرعام ریپ کیا گیا‘ کشمیر کی داستان تو ہے ہی فرعونیت کی داستان‘ یہ خطہ 73 برسوں سے سلگ رہا ہے‘ اس میں موت بوئی اور موت کاٹی جا رہی ہے‘ کشمیر میں کرفیو کو 215دن ہو چکے ہیں‘ ہسپتال‘ سکول اور مارکیٹیں بھی بند ہیں اور انٹرنیٹ اور فون سروس بھی‘ چھ ہزار نوجوان گھروں سے غائب ہیں اور آج دہلی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی پوری دنیا کے سامنے ہے‘ 8دنوں میں 40مسلمان شہید اور 200زخمی ہو چکے ہیں۔

لوگوں کے گھر‘ دکانیں اور گاڑیاں تک جلا دی گئیں اور پولیس تماشا دیکھتی رہی‘ بھارتی میڈیا اپنے منہ سے بول رہا ہے پولیس اور فوج نے کھل کر بلوائیوں کا ساتھ دیا‘ یہ مسلمانوں کو پکڑ کر انتہا پسندوں کے حوالے کر دیتے تھے اور وہ انہیں ڈنڈوں‘ راڈز اور پتھروں سے کچل دیتے تھے‘ خواتین کو ریپ بھی کیا گیا اور بچوں کو گاڑیوں تلے بھی روند دیا گیا‘ یہ ظلم صرف مسلمانوں تک محدود رہتا تو شاید گاندھی کے سیکولرازم کی عزت بچ جاتی لیکن 1984ءمیں سکھوں کے گولڈن ٹیمپل کے ساتھ کیاہوا؟

اندرا گاندھی کے حکم پر فوج گولڈن ٹیپمل میں داخل ہوئی اورتین ہزار زائرین کو بھون کر رکھ دیا‘ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد دہلی میں سکھوں کے ساتھ دوبارہ کیا سلوک ہوا؟سیکڑوںسکھ خواتین ریپ ہوئیں اور اربوں روپے کی پراپرٹیز جلا کر راکھ کر دی گئیں‘بھارت میںعیسائیوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ بھارت عیسائیوں پر حملوں میں10 بدترین ممالک میں شامل ہے‘ 2018ءمیں مسیحی برادری پر 12000 حملے ہوئے‘درجنوں چرچ بھی جلادیئے گئے اورسیکڑوںعیسائی قتل بھی کر دیئے گئے۔

بھارت میں1948ءمیں 30ہزاریہودی تھے‘ آج صرف پانچ ہزار ہیں‘ باقی بھارت چھوڑ کر جا چکے ہیں‘ بودھوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ آپ کسی دن یہ ڈیٹا بھی نکال کر دیکھ لیں اور آپ انڈیا میں 35کروڑ دلتوں کے ساتھ سلوک بھی دیکھ لیجیے‘ یہ لوگ آج بھی انسانوں کے برابر حقوق حاصل نہیں کر سکے‘ یہ آج 21 ویں صدی میں بھی جانوروں سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں‘ ہم پاکستانی بھی نفرت سے بھرے ہوئے ہیں لیکن نفرت‘ شدت‘ تعصب اور جانب داری نے انسانیت کی جتنی دیواریں بھارت میں پھلانگی ہیں اور لوگ عقائد اور نسلوں کی جتنی سزا وہاں بھگت رہے ہیں ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

یہ درست ہے بھارت نے پچھلے 30 برسوں میں معاشی ترقی کی‘ آج وہاں 138ارب پتی ہیں‘ یہ دنیا کی پانچویں بڑی معاشی طاقت بھی ہے لیکن یہ سماجی‘ انسانی اور مذہبی سطح پر انسانیت سے جتنا نیچے گیا ہم وہ سوچ بھی نہیں سکتے‘ مسلمان‘ سکھ اور دلت آج بھی کسی برہمن کے گلاس میں پانی اور پلیٹ میں کھانا نہیں کھا سکتے‘ یہ ان کے سائے پر بھی پاﺅں نہیں رکھ سکتے چناں چہ ہم کہہ سکتے ہیں بھارت جس تیزی سے معاشی ترقی کر رہا ہے یہ اس سے ہزار گنا تیزی سے شرف انسانیت سے نیچے جا رہا ہے اور یہ تیزی ثابت کر رہی ہے یہ اب زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہ سکے گا۔

مجھے آج قائداعظم محمد علی جناح کے الفاظ بار بار یاد آرہے ہیں‘ قائد نے کشمیری رہنماﺅںسے کہا تھا‘ تم نے اگر پاکستان سے الحاق نہ کیا تو تمہاری نسلیں پچھتائیں گی‘ آج ہندوستان میں موجود ہر اقلیتی خاندان کی نسلیں پچھتا رہی ہیں۔مجھے کل دہلی کے ایک مسلمان نے فون کر کے کہا ”بھائی صاحب آپ لوگ یہاں سے نکل گئے‘ آپ پر اللہ نے بڑا کرم کیا‘ ہم لوگ جو یہاں رہ گئے وہ اب جان بچانے کے لیے ماتھے پر تلک لگاتے ہیں‘ اپنے ناموں کے ساتھ رام لکھتے ہیں اور اپنے بچوں کے ختنے نہیں کرتے“ ۔

میں سکتے میں آ گیا‘ وہ بولے ”جناب ہم اپنے بچوں کو بچپن میں تربیت دیتے ہیں‘ وہ باہر کسی جگہ اللہ اور اس کے رسول کا نام نہ لیں‘ ٹھڈا لگ جائے تو زبان سے ہائے رام اور دل میں یا اللہ کہیں لیکن ہم اس منافقت کے باوجود بھی یہاں محفوظ نہیں ہیں“ اس کا کہنا تھا ”پاکستان کے ہر شخص کو میرا پیغام دے دیں‘ اسے کہیں دہلی کا محمد خالد کہہ رہا ہے تم ایک بار دہلی آ کر دیکھ لو‘ تم مان جاﺅ گے‘ پاکستان کتنی بڑی نعمت‘ اللہ کا کتنا بڑا انعام ہے لہٰذا اس کی قدر کرو‘ اللہ کا شکر ادا کرو‘ تم کم از کم اپنے بچوں کے کانوں میں اذان تو دے لیتے ہو‘ تم ان کے ختنے تو کر رہے ہو‘ ہم تو جان بچانے کے لیے ان سے بھی تائب ہو رہے ہیں‘ ‘میں کانپ گیا‘ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اٹھ کر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔