روس کا امریکا پریوکرین جنگ میں براہِ راست کرداراداکرنے کا الزام

  بدھ‬‮ 3 اگست‬‮ 2022  |  17:19

ماسکو(این این آئی)روس نے امریکا پریوکرین جنگ میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام عاید کیاہے جبکہ واشنگٹن نے اس الزام کی تردید کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق روسی وزارت دفاع کے ترجمان میجرجنرل ایگور کوناشینکوف نے کہا کہ یوکرین کے فوجی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ نے ٹیلی گراف کودیے گئے انٹرویو میں راکٹ حملوں میں امریکا کے کردار کا ذکر کیا ہے

اور یہ امریکا اور یوکرین میں ہم آہنگی کا واضح ثبوت ہیں۔یوکرینی عہدہ دار واڈیم سکیبتسکی نے دا ٹیلی گراف کیف کو بتایا کہ انھوں نے سیٹلائٹ تصاویر اور واشنگٹن کی جانب سے فراہم کردہ حقیقی وقت کی معلومات کی بنیاد پرہیمارس راکٹ لانچ سسٹم کا استعمال کیا ہے۔سکیبتسکی نے کہا کہ روسی فوج پرحملوں سے قبل امریکی اور یوکرینی انٹیلی جنس افسروں کے درمیان مشاورت ہوئی تھی اور امریکاکو ہدف کے انتخاب پرویٹواختیار حاصل تھا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ امریکی حکام نے براہ راست نشانہ بنانے کی معلومات فراہم نہیں کیں۔ کوناشینکوف نے کہا کہ یوکرین میں ہیمارس کے لانچ راکٹ سسٹم (ایم ایل آر ایس)کے متعدد حملوں سے قبل ہرہدف پر واشنگٹن کا سمجھوتاثابت کرتا ہے کہ وائٹ ہاس اور پینٹاگون کے بیانات کے باوجود امریکا براہ راست اس تنازع میں ملوث ہے۔انھوں نے مزید کہاکہ یہ سب کچھ ناقابل تردید طور پریہ بات ثابت کرتا ہے کہ واشنگٹن وائٹ ہاس اور پینٹاگون کے بیانات کے برعکس یوکرین میں تنازع میں براہ راست ملوث ہے۔واشنگٹن نے بار بار یہ بات زوردے کرکہی کہ اس کا کردار کیف کو ہتھیارمہیا کرنے تک محدود تھا اور وہ اس جنگ میں براہ راست ملوث نہیں ہونا چاہتا تھا۔



زیرو پوائنٹ

ہم کوئلے سے پٹرول کیوں نہیں بناتے؟

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎