کرونا وائرس جیسی مہلک وباء کے باوجود چین نے کس میدان میں خود کو منوا لیا؟امریکا دوڑکسی کام نہ آئی ، بہت پیچھے رہ گیا

  جمعہ‬‮ 10 اپریل‬‮ 2020  |  17:09

کراچی(این این آئی)ورلڈ انٹیلکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کے ڈیٹا کے مطابق ٹیلی کام آلات بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی چین کی ہواوے ٹیکنالوجیز مسلسل تیسرے سال پیٹنٹ کے لیے درخواستیں دینے میں سر فہرست ہے۔پچھلے سال چین نے دنیا میں بین الاقوامی پیٹنٹس کے لیے سب سے زیادہ درخواستیں دیں اور امریکا کو پیچھے چھوڑ دیاجو40 سال قبل اس عالمی نظام کے وجود میں آنے سےاب تک سب سے اوپر تھا۔یہ انکشاف اقوام متحدہ کی پیٹنٹ ایجنسی نے کیا۔وائیپو نے جو پیٹنٹ کے بارے میں ملکوں کے لیے نظام کی نگرانی کرتی ہے، کہا ہے کہ پچھلے سال


چین کی طرف سے 57, 840 درخواستیں دی گئیں۔اس ا دارے نے کہا کہ صرف20 سال کے عرصہ میں چین کی طرف سے درخواستوں کی تعداد میں 200 گنا اضافہ ہوا۔1978 میں پیٹنٹ کوآپریشن ٹریٹی سسٹم قائم ہونے کے بعد سے سب سے زیادہ درخواستیں ہر سال امریکا کی طرف سے دی جاتی تھیں۔اب پیٹنٹ کی نصف سے زیادہ درخواستیں یعنی52.4% ایشیا سے آتی ہیں،جاپان تیسرے نمبر پر اور اس کے بعد جرمنی اور جنوبی کوریا کا نمبر آتا ہے۔پیٹنٹس کی ملکیت کو عام طور سے کسی ملک کے معاشی استحکام اور صنعتی سمجھ بوجھ کے اہم اشارے کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔


موضوعات: