بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

کرونا وائرس جیسی مہلک وباء کے باوجود چین نے کس میدان میں خود کو منوا لیا؟امریکا دوڑکسی کام نہ آئی ، بہت پیچھے رہ گیا

datetime 10  اپریل‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)ورلڈ انٹیلکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کے ڈیٹا کے مطابق ٹیلی کام آلات بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی چین کی ہواوے ٹیکنالوجیز مسلسل تیسرے سال پیٹنٹ کے لیے درخواستیں دینے میں سر فہرست ہے۔پچھلے سال چین نے دنیا میں بین الاقوامی پیٹنٹس کے لیے سب سے زیادہ درخواستیں دیں اور امریکا کو پیچھے چھوڑ دیاجو40 سال قبل اس عالمی نظام کے وجود میں آنے سے

اب تک سب سے اوپر تھا۔یہ انکشاف اقوام متحدہ کی پیٹنٹ ایجنسی نے کیا۔وائیپو نے جو پیٹنٹ کے بارے میں ملکوں کے لیے نظام کی نگرانی کرتی ہے، کہا ہے کہ پچھلے سال چین کی طرف سے 57,840 درخواستیں دی گئیں۔اس ا دارے نے کہا کہ صرف20 سال کے عرصہ میں چین کی طرف سے درخواستوں کی تعداد میں 200 گنا اضافہ ہوا۔1978 میں پیٹنٹ کوآپریشن ٹریٹی سسٹم قائم ہونے کے بعد سے سب سے زیادہ درخواستیں ہر سال امریکا کی طرف سے دی جاتی تھیں۔اب پیٹنٹ کی نصف سے زیادہ درخواستیں یعنی52.4% ایشیا سے آتی ہیں،جاپان تیسرے نمبر پر اور اس کے بعد جرمنی اور جنوبی کوریا کا نمبر آتا ہے۔پیٹنٹس کی ملکیت کو عام طور سے کسی ملک کے معاشی استحکام اور صنعتی سمجھ بوجھ کے اہم اشارے کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…