ہندوستان چھوڑ دو،بھا رتی شہری اپنی حکومت سے تنگ،دیگر ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے پر مجبور،اعداد و شمار سے مودی بھی بوکھلا گئے

  اتوار‬‮ 8 مارچ‬‮ 2020  |  14:45

حیدرآباد(آن لائن)بھا رتی شہری اپنی حکومت سے تنگ آ کر اپنا ہی ملک چھو ڑ نے پر مجبو ر ہو گئے ، اپنے جا ن وما ل کے تحفظ کے لیے ہزا رو ں شہریو ں نے دیگر ممالک میں سیا سی پنا ہ لے لی ۔بھارت کے موجودہ حالات ہندوستانی شہریوں کو دیگر ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے پر مجبور کرنے لگے ہیں۔ہندستانی شہری اپنی شہریت ترک کرکے دنیا کے دیگر ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے لگے ہیں جو ملک کے حالات کے غیر یقینی ہونے کا ثبوت ہے۔ سال 2009 میں 4 ہزار 722 ہندستانی شہریوں


نے دنیا کے دیگر ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے درخواست داخل کی تھی اور ہندستان میں اپنے جان ومال کے تحفظ کے متعلق خدشات کا اظہار کیا تھا لیکن سال 2018 میں یہ تعداد بڑھ کر 51 ہزار769 تک پہنچ چکی ہے اور 10سال کے دوران 996 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ہندستانی شہری جو دنیا کے مختلف ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے درخواست داخل کر رہے ہیں ان میں بڑی تعداد ہندستان میں خود کو عدم تحفظ کا شکار محسوس کررہی ہے۔ بین الاقوامی ہیومن رائیٹس واچ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہندستان کے موجودہ حالات میں اس تعداد میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا جاسکتا ہے۔ یو این ایچ آ ر سی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کا جائزہ لینے پر اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ہندوستانی شہری نہ صرف امریکہ و کینیڈا بلکہ سائوتھ افریقہ‘ آسٹریلیا‘ برطانیہ‘ سائوتھ کوریا کے علاوہ جرمنی میں بھی سیاسی پناہ کیلئے درخواستیں داخل کرنے لگے ہیں۔ سال 2009میں امریکہ میں جملہ 1321 ہندستانی شہریوں نے سیاسی پناہ کیلئے درخواست داخل کی تھی اور کینیڈا میں اس مدت کے دوران 1039 ہندستانیوں نے سیاسی پناہ کیلئے درخواست داخل کی تھی۔لیکن سال 2018کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے پر اس میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سال 2018 میں 28 ہزار489 ہندوستانیوں نے امریکہ میں سیاسی پناہ کے لئے درخواست داخل کی ہیں اور کینیڈا میں سیاسی پناہ کیلئے درخواست داخل کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سال 2018 میں کینیڈا میں سیاسی پناہ کیلئے درخواست داخل کرنے والوں کی تعداد 5ہزار 522 رہی۔ اسی طرح دنیا کے دیگر ممالک میں بھی سیاسی پناہ حاصل کرنے کیلئے ہندستانیوں کی جانب سے درخواستیں داخل کی جانے لگی ہیں۔سائوتھ افریقہ میں 4 ہزار329 ہندستانیوں نے سیاسی پناہ کیلئے درخواست داخل کی ہے جبکہ آسٹریلیا میں 3ہزار584 ہندستانی شہریوں نے سیاسی پناہ کیلئے درخواست داخل کی ہے۔ برطانیہ میں سیاسی پناہ کیلئے درخواست داخل کرنے والے ہندوستانیوں کی تعداد1ہزار 667 ہوچکی ہے اور سائوتھ کوریا میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کیلئے 1ہزار657 ہندستانیوں نے درخواست داخل کی ہے۔ اسی طرح جرمنی میں 1ہزار313 ہندوستانی شہریوں نے سیاسی پناہ کے حصول کے لئے درخواستیں داخل کی ہیں۔رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 57 ممالک میں ہندوستانی شہریوں نے سال 2018 کے دوران سیاسی پناہ کے حصول کے لئے درخواستیں داخل کی ہیں۔ ماہرین کا کہناہے کہ سال 2014 انتخابات کے نتائج کے بعد ہندستان میں عدم تحفظ کا شکار طبقہ کے علاوہ جو حالات پیدا ہوتے جا رہے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے سیاسی پناہ کے حصول کی کوشش کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہاہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے عہدیداروں کا کہناہے کہ سال 2019 میں ہندوستان میں شہریت ترمیم قانون اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے سبب سیاسی پناہ کے حصول کی کوشش کرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ 2019 کی مکمل رپورٹ تاحال منظر عام پر نہیں آئی ہے اور تیاری کے مراحل میں ہے۔اسی لئے اس سلسلہ میں یہ بات نہیں کہی جاسکتی کہ سال 2019 اور 2020 کے دوران کتنے ہندوستانیوں نے سیاسی پناہ کیلئے دنیا کے مختلف ممالک میں سیاسی پناہ کی درخواست داخل کی ہے۔ مہاجرین کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے ہجرت کی وجوہات کا جائزہ لینے والے محققین کا کہناہے کہ ہندستان سے ہجرت کرنے والوں کی بڑی تعداد عدم تحفظ کا شکار ہونے کے علاوہ بے روزگاری اور معاشی حالات کے سبب دنیا کے دیگر ممالک کی شہریت کے حصول کی کوشش کر رہی ہے اور سال2014 کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے بعد عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور جو لوگ ہجرت کے موقف میں ہیں اور ان امور سے واقف ہیں وہ ملک چھوڑ کرجانے کی فکر میں ہیں۔ملک میں شہریت ترمیم قانون ‘ این آر سی اور این پی آر کے فیصلہ کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی اور ہندوستانی شہریوں کی جانب سے احتجاج اور حکومت کی ضد کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا کہناہے کہ ہندستان سے ہجرت کرنے والوں کی تعداد میں آئندہ برسوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے اور بیرون ملک موجود ہندستانی شہری ان ممالک میں سیاسی پناہ کے حصول کیلئے درخواستیں داخل کرسکتے ہیں کیونکہ وہ ہندوستان کے حالات سے متفکر اور عدم تحفظ کا شکار ہونے لگے ہیں۔


موضوعات: