پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

مسلمانوں کو 1947ء میں ہی پاکستان بھیج دینا چاہیے تھا، ہمارے بزرگوں نے غلطی کی، بھارتی جنتا پارٹی دل کی بات زبان پر لے آئی

datetime 21  فروری‬‮  2020 |

نئی دہلی(آن لائن) بھارت میں جہاں انتہا پسندی عروج پکڑتی جا رہی ہے اور مسلمانوں کے لئے وہاں زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے،وہاں ہی حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما گریراج سنگھ کا کہنا ہے کہ ہمیں ہمارے مسلمان بھائیوں کو 1947 میں ہی پاکستان بھیج دینا چاہیتے تھا اور پاکستان میں موجود ہندوں کو بھارت میں بلا لینا چاہیئے تھا۔بھارت میں شہریت کے متنازع قانون نے وہاں مسلمانوں کے لئے

رہنا مشکل ہی نہیں نا ممکن کر دیا۔ متنازع قانون کے مطابق بھارت ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو شہریت دے گامگر مسلمانوں کو نہیں۔مودی سرکار کے اس فیصلے پر بھارت کے اندر سے کئی تحریکیں شروع ہو رہی ہیں۔ ایسے میں حکمران جماعت کے رہنما نے مسلمانوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہیں بھارت رہنے کے لئے جگہ نہیں دے گا تو وہ کہاں جائیں گے؟ واضح رہے کہ گریراج سنگھ پہلے بھی اپنے بیانات کی وجہ سے کافی خبروں میں رہتے ہیں۔انہیں اکثر حکومت کے خلاف بیان بازی کرتے ہوئے بھی دیکھا جاتا رہا ہے۔اسی دوران انہوں نے ایک اور بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مسلمان بھائیوں کو 1947 میں ہی پاکستان بھیج دینا چاہیئے تھا اور ہمارے لوگوں کو ہندوستان بلا لینا چاہیئے تھا تا کہ اس طرح کے مسئلے پیدا نہ ہوتے۔ان تمام مسائل کی وجہ بزرگوں کی غلطی کہتے ہوئے گریراج سنگھ کا کہنا تھا کہ انہوں نے تب یہ غلطی کی تھی جس کی سزا ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔بانی پاکستان محمد علی جناح کے بارے میں بات کرتے ہوئے ا ن کا کہنا تھا کہ وہ بھارت کو ایک مسلمان ریاست بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔یاد رہے کہ بھارتی رہنما کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے حوالے سے کئی تحریکیں جنم لے رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…