جمعرات‬‮ ، 08 جنوری‬‮ 2026 

مسئلہ کشمیر پر ارکان یورپین پارلیمنٹ کی کوششیں لائق تعریف،ارکان نے کشمیر کی صورتحال کو سنگین قراردیتے ہوئے مودی حکومت کے اقدامات کو نا قابل قبول قرار دیدیا

datetime 21  ستمبر‬‮  2019 |

برسلز(این این آئی)یورپین پارلیمنٹ کے ا سٹراسبرگ اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بحث نے بھارت کے اس موقف کو یورپ میں سب سے زیادہ زک پہنچائی ہے کہ کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس بات پر ممبران یورپین پارلیمنٹ فل بینین، ٹرائین باسکو، نوشینہ مبارک ، ماریا ایرینا، شفق محمد، رچرڈ کوربٹ، اینتھیا میکن ٹائیر۔

کرس ڈیوس ، جینا ڈائو ڈنگ ، آڈوئیا ولانیوا روئینرا اور کلاز بخنر کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے کہ جنکی پیش کردہ فوری قرارداد اور اس پر گفتگو نے بارہ سال کے طویل عرصے کے بعد یورپی یونین کو اپنا موقف واضح انداز میں بیان کرنے کا موقع دیا۔ان ممبران نے لفظوں کو چبائے بغیر مہذب انداز میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو سنگین قراردیتے ہوئے مودی حکومت کے اقدامات کو نا قابل قبول قرار دیا۔اسی طرح وہ تمام لوگ بھی قابل تعریف ہیں جن کے بڑے بڑے مظاہروں نے ان ممبران کو مسئلے کی سنگینی پر متوجہ کیا۔اس ساری صورتحال کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ مودی حکومت نے اس اقدام کو اس وقت اٹھایا جب یورپ بھر میں ادارے چھٹیوں پر ہوتے ہیں۔یورپین پارلیمنٹ میں بحث کے آغاز سے قبل یورپین یونین کا بیان وزیر برائے یورپین افیئرز ٹائیٹی جوہانا تپرینن نے پڑھ کر سنایا۔یونین کے اس بیان نے بھارت کے اس وقت بیرونی دنیا کیلئے اختیار کردہ ہر موقف کو سفارتی اندا ز میں رد کردیا۔جس میں بھارت دعویٰ کرتا ہے کہ بھارت نے دفعہ تین سو ستر کا خاتمہ کیا کیوں کہ یہ اس کا اندرونی معاملہ ہے اور یہ عمل کشمیری عوام کی معاشی ترقی اور بہتری کیلئے اٹھایا گیا ہے۔یورپین یونین نے کہا کہ یہ ایک طویل عرصے سے حل طلب تنازعہ ہے یہ اس کا اندرونی مسئلہ نہیں۔بھارت اور پاکستان کے درمیان اس مسئلے کے حل کیلئے مذاکرات ناگزیر ہیں۔دونوں ملک کنٹرول لائین کے دونوں طرف کے عوام کے مفاد میں کشمیر کا سیاسی اور سفارتی حل نکالیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…