جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں ریاستی مظالم پر بھارتی نژاد امریکی رکن کانگریس بھی چیخ پڑیں،کھری کھری سنا دیں

datetime 12  ستمبر‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی) امریکی ہاؤس آف ریپرزینٹیٹو (کانگریس) کی واحد بھارتی نژاد قانون ساز پرامیلا جیاپال نے مقبوضہ وادی کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو اس بات پرآمادہ کریں کہ وہ جاری کرفیو کا فوری طور پرخاتمہ کرے۔

امریکی ٹی وی کے مطابق پرامیلا جیا پال اور کانگریس مین جیمز پی میک گورن نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ کو مقبوضہ وادی کشمیر میں جانے کی اجازت دی جائے۔نشریاتی ادارے کے مطابق دونوں امریکی قانون سازوں نے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کو گیارہ ستمبر کے دن بھیجے جانے والے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ مقبوضہ وادی چنار میں مواصلاتی نظام کی معطلی کا خاتمہ کرے اور اسے بحال کرے۔امریکی سی آئی اے میں ڈائریکٹر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے چکنے والے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کو لکھے جانے والے خط میں پرامیلا جیا پال اور جیمز پی میک گورن نے زور دیا کہ امریکہ، بھارت کو اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ بے گناہوں کی رہائی یقینی بنائے، گرفتاری کے عمل کی دوبارہ تحقیقات کرے، اسپتالوں میں ادویات کی قلت دور کرکے انہیں فراہم کرے، کشمیریوں کو ان کی مذہبی عبادت کی آزادی مہیا کرے اور انہیں ان کی اسمبلی کا حق دے۔امریکی قانون ساز ادارے کے دونوں اراکین نے اس بات پرسخت تشویش ظاہر کی کہ مقبوضہ وادی کشمیر میں ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مذہبی آزادی کے حوالے سے صبر و تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرے کہ یہی جمہوریت کا چلن ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بھارت کی تاریخ خود اس کا ثبوت ہے۔ جیاپال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی مائیک پومپیو کو لکھے جانے والے خط کی کاپی شیئر کی ہے۔ انہوں نے بھارتی جمہوریت پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ بھارت مقبوضہ وادی کشمیر کے لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ میں یکسر ناکام ثابت ہوئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…