کارگل کی جنگ میں پاک فوج کے کس خطرناک ترین ہتھیار نے ہماری  ہوائیاں اْڑا دی تھیں،بھارتی جنرل بخشی کے انکشافات

  بدھ‬‮ 21 اگست‬‮ 2019  |  23:35

نئی دہلی (آن لائن)مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر بھارت کے ایک ریٹائرڈ فوجی افسر جنرل بخشی کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں انہوں نے کارگل جنگ میں ہونے والے نقصان اور بی ایس ایف کے اہلکاروں کے مابین پاک فوج کے خوف کی تمام تر کہانی بیان کر دی۔ اپنے ایک انٹرویو میں جنرل بخشی نے کہا کہ دشمن نے ساری ہائیٹس پکڑ رکھی تھیں ہماری جو پہلی پلٹن گئی وہ ان کی ٹھیک مار کے پیچھے تھی۔دن میں کسی قسم کی کوئی حرکت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، کھانا بنکرز میں بنتا تھا اور یہاں تک


کہ بی ایس ایف کے اہلکاروں کو لیٹرین بھی بنکرز کے اندر ڈبوں میں کر کے باہر پھینکنی پڑتی تھی۔ کیونکہ دشمن سر کے اوپر ہوتا تھا اور چوبیس گھنٹے فائر ہوا تھا جس سے ہمارا بہت نقصان ہوا۔اس کے بعد مہار پلٹن آئی اْس کا بھی بہت نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو ایک چھوٹی سی کہانی سناتا ہوں، ہمارا ایک جگہ بی ایس ایف کا پوسٹ تھا جب میں بٹالین کمانڈر میں چارج لیا اور اس پوسٹ پر گیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں تباہی پھری ہوئی تھی، تمام بنکرز تباہ ہو چکے تھے اور سارے کے سارے بی ایس ایف کے جوان وہ ریورس پر تھے۔پوسٹ پر آگے کی جانب ایک بنکرز رہ گیا تھا جہاں ہمارا ایک حوالدار تھا جس نے مجھ سے کہا کہ میں آپ سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ میرے دریافت کرنے پر اْس نے بتایا کہ سر ہماری بہت زیادہ بے عزتی ہوئی، پاکستان اپنی ائیرڈیفنس گن کی توپ لے آیا جس کی رینج میری توپ سے زیادہ ہے۔ پاکستان نے فائر کیا تو یہاں ہمارے پاس سو کے قریب جو مٹی کے تیل کے بیرل تھے وہ سب کے سب جل گئے۔ اس کے بعد بی ایس ایف کے لڑکے گھبرا گئے اور آگے کی طرف صرف وہ حوالدار ہی تھا۔ حوالدار نے بتایا کہ پاکستانیوں نے ہمیں اچھی طرح مار لگا کر اپنے اپنے بنکرز سے نکل کر چھت پر بھنگڑا کیا اور ہماری بہت بے عزتی ہوئی

موضوعات:

loading...