ہماری زمین برائے فروخت نہیں، ڈنمارک  نے  گرینڈ لینڈ کی فروخت سے انکار کردیا،ٹرمپ کا شدید ردعمل،اپنا ڈنمارک کا سرکاری دورہ ہی منسوخ کردیا

  بدھ‬‮ 21 اگست‬‮ 2019  |  23:03

ڈنمارک، واشنگٹن(آن لائن)ڈنمارک کے وزیر اعظم کی جانب سے گرینڈ لینڈ کی فروخت سے انکار کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا ڈنمارک کا سرکاری دورہ منسوخ کردیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ملک ڈنمارک کی خودمختار ریاست کا درجہ رکھنے والے ملک گرین لینڈ کو خریدنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار گرین لینڈ کو خریدنے کیخواہش گزشتہ برس ظاہر کی تھی اور اب ان کی یہ خواہش شدید تر ہو گئی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو خریدنے کی


خواہش کے بعد جہاں وہاں کے مقامی افراد پریشان دکھائی دیے، وہیں ڈنمارک اور گرین لینڈ کے سیاستدان بھی امریکی صدر کی خواہش پر حیران دکھائی دیے۔گرین لینڈ کی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر واضح موقف دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی زمین برائے فروخت نہیں۔ڈنمارک کے وزیر اعظم میٹ فریڈ رکسن نے بھی اس معاملے پر بیان دیتے ہوئے امریکی صدر کی تجویز کو مضحکہ خیز قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ امریکی صدر سنجیدہ نہیں تھے البتہ اس بارے میں وہ تفصیلی بیان آج جاری کریں گے۔امریکی صدر کو ڈینش وزیر اعظم کا یہ بیان پسند نہ آیا اور انہوں نے اسی سبب اپنا ڈنمارک کا سرکاری دورہ منسوخ کردیا۔ڈنمارک کی ملکہ مارگریتھ 2 نے امریکی صدر کو دورے کی دعوت دی تھی اور اسی دعوت پر ٹرمپ کو 2ستمبر کو ڈنمارک دورہ کرنا تھا۔اپنی ٹوئٹ میں امریکی صدر نے ڈنمارک کو ایک خصوصی ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اب ڈنمارک کا دورہ نہیں کریں گے کیونکہ وزیر اعظم فریڈرکس کو گرین لینڈ کی فروخت کے بارے میں گفتگو میں کوئی دلچسپی نہیں۔وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر کے دورے کی منسوخی کی تصدیق کردی ہے۔ڈنمارک کے شاہی خاندان نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہیں دورے کی منسوخی کے بارے میں آگاہ کردیا گیا ہے۔امریکی صدر کے اس دورہ ڈنمارک کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا تھا جس کی منسوخی پر ڈنمارک کے رہنماؤں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ڈنمارک کی کنزرویٹو پارٹی کے رکن راسموس جارلوو نے کہا کہ امریکی صدر کا رویہ ناقابل یقین ہے، ٹرمپ نے نجانے کیوں یہ تصور کر لیا کہ ہمارے ملک کا ایک خودمختار حصہ برائے فروخت ہے، پھر ہتک آمیز رویہ اپناتے ہوئے اس وقت دورہ منسوخ کردیا جب سب اس کے لیے تیار تھے۔سابق وزیر خارجہ کرسٹین جینسن نے کہا کہ ٹرمپ کے اقدام سے افراہ تفری پھیل گئی، یہ چیز دو اتحادیوں کے درمیان مذاکرات کے بہترین موقع سے سفارتی بحران میںتبدیل ہو گئی ہے، اس سلسلے میں تعاون کی دوبارہ ڈگر پر واپسی کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں بائیں بازو کی جماعت ریڈ گرین الائنس کے ترجمان پرنیل اسکیپر نے کہا کہ ٹرمپ کسی دوسرے ہی سیارے پر رہتے ہیں۔ٹرمپ کی گرین لینڈ میں دلچسپی کی وجہ وہاں کے قدرتی ذخائر اور معدنیات کی بھرمار ہے لیکن شاید یہ بات ان کے علم میں نہیں کہ گرین لینڈ کی دو تہائی معیشت کا انحصار ڈنمارک پر ہے اور وہاں خودکشی، شراب نوشی اور بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے۔

موضوعات:

loading...