آسمان سے مچھلیوں کی بارش ہونے لگی عجیب منظر دیکھ کر شہری حیران وپریشان

  پیر‬‮ 3 جنوری‬‮ 2022  |  13:31

ٹیکساس(این این آئی)امریکی ریاست ٹیکساس کے قصبے ٹیکسارکانا میں ایک عجیب وغریب ماحولیاتی مظہر دیکھنے میں آیا ہے جس میں سڑکوں پرمچھلیوں کی بارش دکھائی گئی ہے۔ ماحولیاتی حوالے سے اس منظر کوجانوروں کی بارش کہا جاتا ہے۔مقامی امریکی چینل کے مطابق ٹیکساس اور

آرکنساس کے درمیان سرحد کے قریب واقع قصبے کے رہائشیوں نے اس نایاب واقعے کو کیمروں میں محفوظ کیا اور اس کے بعد سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیا گیا۔ ویڈیو میں ہر طرف مچھلیاں بکھری دکھائی دیتی ہیں۔یہ مظہراس وقت دیکھا جاتا ہے جب چھوٹے جانور ندیوں میں بہہ جاتے ہیں۔ طوفانی بادل گھومتے ہیں اور پانی کے جسم پر چلنے والی ابر آلود ہواں کا ایک سمندری طوفان جیسا کالم بناتے ہیں۔اس نوعیت کے سائنسی مظاہر کی تفصیلات شائع کرنے والی ویب سائٹ لائبریری آف کانگریس کے مطابق اس نوعیت کے واقعات نہروں، تالابوں اور جھیلوں سے لے کرسمندروں تک میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان مظاہر میں بعض اوقات مینڈکوں اوربعض اوقات مچھلیوں کی بارش دیکھی جا سکتی ہے۔ویب سائٹ کے مطابق پانی کے ان ستونوں کے بارے میں ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ وہ سمندر سے اٹھتے ہیں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے کہ وہ ہوا میں بنتے ہیں اور پھر پانی کی سطح پر اترتے ہیں۔ایک بارطوفان سمجھے جانے کے بعد ایک واٹرشیڈ ایک بھنور بناتا ہے جو طوفان میں ہوا، پانی اور ٹھوس چیزوں کو جذب کر سکتا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ ایسے ہی واقعات کی اطلاع جہاں آسمان سے مینڈک گرتے ہوئے دیکھے گئے کچھ عرصہ قبل سامنے آئی تھی۔ سنہ 2017 میں کیلیفورنیا کے ایک ایلیمنٹری اسکول کے اوپر آسمان سے ایک مچھلی گرنے کا واقعہ دیکھا گیا۔



زیرو پوائنٹ

سانو۔۔ کی

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎