ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

بھارت میں کورونا نے تباہی مچا دی، نئی دہلی میں ہر تیسرا شخص کورونا میں مبتلا ہو گیا

datetime 23  اپریل‬‮  2021 |

نئی دہلی(مانیٹرنگ +آن لائن) بھارت میں کورونا وائرس کی تیسری لہر اور نئی قسم سامنے آنے پر کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جبکہ سوا تین لاکھ سے زیادہ نئے یومیہ متاثرین رپورٹ ہو رہے ہیں، بھارت کے ہسپتال مریضوں سے بھر چکے ہیں اور آکسیجن سلنڈرز کے لئے لڑائی ہونے لگی ہے، نئی دہلی میں بدترین صورتحال

ہے، ایک دن میں سب سے زیادہ 25 ہزار سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں، دہلی میں ہر تیسرا شخص کورونا کا شکار ہے، بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں کورونا وائرس کی نئی لہر کی وجہ سے نظام صحت بری طرح ٹھپ ہو گیا ہے اور بڑھتے ہوئے مریضوں کی تعداد کے پیش نظر شہر کے متعدد ہسپتالوں نے آکسیجن فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔اس نئی لہر کے دوران تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ وائرس کی نئی طرز کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے کمبھ کے میلے سمیت بڑے عوامی اجتماعات کی اجازت دینے کو قرار دیا جا رہا ہے۔نئی دہلی میں ہسپتالوں کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر حکومت سے آکسیجن کی فراہمی کی اپیل کی جا رہی ہے۔بھارت کے بڑے ہسپتالوں میں سے ایک نے جمعہ کی صبح ٹوئٹ کی کہ میکس اسمارٹ ہسپتال اور میکس ہسپتال ساکی میں ایک گھنٹے سے بھی کم کی آکسیجن سپلائی رہ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں 700 سے زائد مریض داخل ہیں جنہیں فوری امداد کی ضرورت ہے۔میڈیکل آکسیجن ٹینکر کے ٹرنک متعدد ریاستوں میں 24 گھنٹے فراہمی کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور فضائیہ کے ٹرانسپورٹ طیاروں نے بھی ملک بھر میں آکسیجن کے بڑے ٹینکوں کو جہاز سے اتارنا شروع کردیا ہے۔ بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3 لاکھ 30 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 2000 افراد ہلاک ہو گئے۔ دریں اثناء آکسیجن کی فراہمی اور اہم دواؤں کی دستیابی سے متعلق وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو تین بحرانی اجلاسوں میں شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…