پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

دنیا میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ایڈز یا سڑک حادثات کی کس وجہ سے نہیں ہوتیں بلکہ۔۔عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں حیرت انگیز انکشاف

datetime 7  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہیکہ شراب نوشی سے دنیا بھر میں ہر سال 3 ملین افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں اور یہ تعداد ایڈز اور سڑک کے حادثات میں مجموعی طور پر مرنے والے افراد کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ صحت کی

ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شراب نوشی کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں زیادہ تعداد مرد حضرات کی ہوتی ہے اور ہر سال بیس میں سے ایک فرد شراب نوشی کے سبب اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔یہ ہلاکتیں زیادہ تر نشے میں ڈرائیونگ، تشدد اور بدسلوکی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شراب نوشی مختلف اقسام کی نفسیاتی اور ذہنی بیمارہوں کا سبب بھی بنتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم نے کہا ہے کہ شراب نوشی کے مضمر اثرات صرف پینے والے پر ہی نہیں پڑتے بلکہ ان کے خاندانوں اور معاشرے پر بھی پڑتے ہیں اور اس سے سرطان اور فالج جیسی بیماریوں کے خدشات میں بھی کئی گناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ معاشروں کو کمزور کرنے والی اس بری عادت کے خلاف جنگ کی ضرورت ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے اقوام عالم پر زور دیا ہے کہ شراب نوشی کے سد باب کے لیے بھر پور کوشش کریں اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں اس کا استعمال میں کم از کم 10 فیصد تک کمی لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…