ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ڈانس نمبرز کرنے پر شرمندہ نہیں ہوں : ملائیکا اروڑا

datetime 11  فروری‬‮  2019 |

ممبئی (این این آئی)بولی وڈ فلموں میں ڈانس نمبرز کو شامل کرنا کوئی نئی بات نہیں، تاہم انہیں فلموں کا حصہ بنانے پر بھی بحث ہوتی رہتی ہیں۔بعض سینئر اداکاراؤں کا خیال ہے کہ ڈانس یا آئٹم نمبرز کا مقصد عریانیت کا فروغ ہیں اور ان کے ذریعے خواتین کو بطور جنسی شے پیش کیا جاتا ہے۔

تاہم بعض اداکارائیں ایسے گانوں کو خواتین کی خودمختاری قرار دیتی ہیں۔کرینہ کپور سے لے کر کترینہ کیف، سوناکشی سنہا سے لے کر مادھوری ڈکشٹ اور ملائیکا شراوت سے لے کر ملائیکا اروڑا تک تقریبا تمام ہی اداکاراؤں نے ایسے گانوں پر پرفارمنس کی ہے۔’منی بدنام ہوئی اور انار کلی ڈسکو چلی‘ سمیت دیگر متعدد ڈانس نمبرز پر پرفارمنس کرنے والی اداکارہ اور ڈانسر ملائیکا اروڑا کہتی ہیں کہ وہ ایسے گانوں میں پرفارمنس کرنے پر شرمندہ نہیں ہیں۔ملائیکا اروڑا نے حال ہی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے گانوں کو ڈانس یا آئٹم سانگس کے ناموں میں قید نہیں کرنا چاہیے۔ملائیکا اروڑا کا کہنا تھا کہ انہوں نے متعدد گانوں میں ڈانس پرفارمنس کی اور انہیں کبھی بھی ایسی پرفارمنس میں شرمندگی محسوس نہیں ہوئی اور نہ ہی انہیں کبھی کوئی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ان کے مطابق انہوں نے ایسے گانوں میں بھی پرسکون ماحول میں پرفارمنس کی اور انہیں اس بات کا بھی بھرپور احساس رہا ہے کہ وہ کیا کرنے جا رہی ہیں۔ساتھ ہی اداکارہ کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ایسے گانوں پر اعتراض اٹھاتا ہے تو دوسرے لوگوں کو آگے آکر ایسے معاملے پر بات کرنی چاہیے اور انہیں سمجھانا چاہیے۔ملائیکا اروڑا نے اس بات پر بھی مسرت کا اظہار کیا کہ انہوں نے متعدد مشہور گانوں پر پرفارمنس کی اور انہیں ایسی پرفارمنس سے پیار ہے۔خیال رہے کہ 45 سالہ ملائیکا اروڑا اس وقت بھی بھارت کے ٹی وی چینلز پر ڈانس ریئلٹی شوز میں بطور جج خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…