ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ڈانس نمبرز کرنے پر شرمندہ نہیں ہوں : ملائیکا اروڑا

datetime 11  فروری‬‮  2019 |

ممبئی (این این آئی)بولی وڈ فلموں میں ڈانس نمبرز کو شامل کرنا کوئی نئی بات نہیں، تاہم انہیں فلموں کا حصہ بنانے پر بھی بحث ہوتی رہتی ہیں۔بعض سینئر اداکاراؤں کا خیال ہے کہ ڈانس یا آئٹم نمبرز کا مقصد عریانیت کا فروغ ہیں اور ان کے ذریعے خواتین کو بطور جنسی شے پیش کیا جاتا ہے۔

تاہم بعض اداکارائیں ایسے گانوں کو خواتین کی خودمختاری قرار دیتی ہیں۔کرینہ کپور سے لے کر کترینہ کیف، سوناکشی سنہا سے لے کر مادھوری ڈکشٹ اور ملائیکا شراوت سے لے کر ملائیکا اروڑا تک تقریبا تمام ہی اداکاراؤں نے ایسے گانوں پر پرفارمنس کی ہے۔’منی بدنام ہوئی اور انار کلی ڈسکو چلی‘ سمیت دیگر متعدد ڈانس نمبرز پر پرفارمنس کرنے والی اداکارہ اور ڈانسر ملائیکا اروڑا کہتی ہیں کہ وہ ایسے گانوں میں پرفارمنس کرنے پر شرمندہ نہیں ہیں۔ملائیکا اروڑا نے حال ہی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے گانوں کو ڈانس یا آئٹم سانگس کے ناموں میں قید نہیں کرنا چاہیے۔ملائیکا اروڑا کا کہنا تھا کہ انہوں نے متعدد گانوں میں ڈانس پرفارمنس کی اور انہیں کبھی بھی ایسی پرفارمنس میں شرمندگی محسوس نہیں ہوئی اور نہ ہی انہیں کبھی کوئی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ان کے مطابق انہوں نے ایسے گانوں میں بھی پرسکون ماحول میں پرفارمنس کی اور انہیں اس بات کا بھی بھرپور احساس رہا ہے کہ وہ کیا کرنے جا رہی ہیں۔ساتھ ہی اداکارہ کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ایسے گانوں پر اعتراض اٹھاتا ہے تو دوسرے لوگوں کو آگے آکر ایسے معاملے پر بات کرنی چاہیے اور انہیں سمجھانا چاہیے۔ملائیکا اروڑا نے اس بات پر بھی مسرت کا اظہار کیا کہ انہوں نے متعدد مشہور گانوں پر پرفارمنس کی اور انہیں ایسی پرفارمنس سے پیار ہے۔خیال رہے کہ 45 سالہ ملائیکا اروڑا اس وقت بھی بھارت کے ٹی وی چینلز پر ڈانس ریئلٹی شوز میں بطور جج خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…