ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل سے باہر نکلنا ہوگا  ٹیکس ماہرین نے حکومت کو کیا  کرنے کا مشورہ دیدیا

datetime 17  جنوری‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی)اپنی پالیسیاں بنانے کیلئے سب سے پہلے عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل سے باہر نکلنا ہوگا جس کیلئے کسی طرح کے اقدامات نہیں اٹھائے جارہے،زمینی حقائق کی بجائے آئی ایم ایف کی ڈائریکشن کی وجہ سے معاشی پالیسیاں سود مند ثابت نہیں ہو رہیں، دوسری ترمیم آرڈیننس 2019سرمایہ کاروں کے لئے شکنجہ ہے جس سے فائدے کی بجائے نقصان ہوگا، پاکستان کے تمام شعبوں میں

پوٹینشل ہے جس سے ہماری معیشت اپنے پائوں پر کھڑی ہو سکتی ہے ۔ان خیالات کا اظہارپاکستان ٹیکس بار کے  سینئر نا ئب صدر قاری حبیب الرحمن زبیر ی،لاہور ٹیکس بار کے صدر خرم شہباز بٹ، سینئر چا رٹرڈ اکاونٹنٹ محمد اویس ،چیئرمین کو ارڈی نیشن کمیٹی کیپ لا ہو ر ٹیکس با رسید حسن علی اور دیگر نے ’’ ٹیکس قوانین ، پالیسیاں اور معیشت ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس مو قع پر پا کستان ٹیکس با ر کے سابق صدر سر ور نعیم شاہ،صدر بز نس فر ینڈز آف اکنا مک اینڈ بز نس ریفا رمز کا شف انور،نا ئب صدر پاکستا ن ٹیکس با ر سہیل اخترسمیت دیگر بھی موجود تھے ۔مقررین نے کہا کہ  نتائج حاصل کرنے کے لئے زمینی حقائق کے مطابق لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم پالیسیاں تریب دینا ہوں گی لیکن بد قسمتی سے عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل میں ہونے کیو جہ ہماری پالیسیاں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے سرمایہ کار اور کاروبار کرنے والے خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں ۔اگر معیشت کو پائوں پر کھڑا کرنا ہے تو ہمیں خالصتاًااپنی پالیسیاں ترتیب دینا ہوں گی اور اس کیلئے سب سے پہلے غیر ملکی قرضوں سے نجات حاصل کرنا ہو گی لیکن بد قسمتی سے اس کے لئے عملی طو رپر کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ۔صرف قرضوں کے مارک اپ کی ادائیگی بڑا کارنامہ نہیں بلکہ پیٹ کا ٹ کر قرضے اتارنے کے لئے اقدامات کئے جائیں ۔ حکومت ٹیکس پا لیسیوں اور ٹیکس قوانین کے لئے اسٹیک ہو لڈرز سے مشاورت کرے ۔سیمینار کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن ہوا جبکہ مہما نوں میں شیلڈ اور سو ینئر ز بھی تقسیم کئے گئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…