جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

حکومت کا پی آئی اے اور اسٹیل ملز کی نجکاری نہ کرنے کا فیصلہ

datetime 31  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے آنے کے بعد نجکاری کمیشن بورڈ کے پہلے اجلاس میں نجکاری ایجنڈے سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اور پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) سمیت دیگر کمپنیوں کو نکالنے کا فیصلہ کرلیا۔ رپورٹ کے مطابق جن 34 سرکاری اداروں کو نکالنے کی حتمی فہرست کابینہ کی نجکاری کمیٹی (سی سی او پی)

کو آج پیش کی جائے گی، اس فہرت میں قومی ایئرلائن، اسٹیل ملز اور ریاست کے زیر اثر دیگر ادارے بھی شامل ہیں۔ پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو کو فوری برطرف کرنے کی تجویز اس حوالے سے بورڈ اجلاس میں موجود باوثوق ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ چیئرمین نجکاری کمیشن محمد میاں سومرو کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں نجکاری پروگرام کا جائزہ لیا گیا اور فہرست کو حتمی شکل دی۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے پی آئی اے، اسٹیل ملز، پاکستان ریلوے اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو نجکاری ایجنڈے سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم حکومت چھوٹے اور درمیانی درجے کے کاروباری اداروں( ایس ایم ایز)، فرسٹ وومن بینک اور نیشنل انشورنس کمپنی سمیت چھوٹے اداروں کے ساتھ نجکاری پروگرام شروع کرے گی۔ علاوہ ازیں قومی ایئرلائن کو دوبارہ ترقی کی جانب گامزن کرنے کے لیے پاکستان ایئرفورس کے ریٹائرڈ عہدیدار کو نیا سربراہ تعینات کردیا گیا جبکہ حکومت اسٹیل ملز کےلیے نئے منصوبہ پر غور کر رہی ہے۔ حکومت مختصر مدت پر 11 اداروں، درمیانی مدت پر 12 اداروں جبکہ بقایہ 11 اداروں کا طویل مدتی بنیاد پر نجکاری کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ(ن) کی سابق حکومت نے پی آئی اے کو دوبارہ بحال کرنے اور حکومت کے 26 فیصد شیئرز کو انتظامی کنٹرول کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنر میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ پاکستان اسٹیل کے معاملے میں فیصلہ انتظامی امور سے متعلق تھا۔ پی آئی اے، اسٹیل ملز کے بعد پوسٹ آفس کی نجکاری کی تجویز ذرائع نے بتایا کہ اجلاس کے دوران پی ٹی سی ایل میں 26 فیصد حکومتی شیئر کی تقسیم کے مقابلے میں متحدہ عرب امارات کی کمپنی اتحصلات کی انتظامیہ کی جانب سے 80 کروڑ ڈالر کی بقایا ادائیگی کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 95 فیصد پراپرٹیز پی ٹی سی ایل کے نام پر منتقل کردی گئی ہے، تاہم یو اے ای کی ٹیلی کام کمپنی سے مطالبے کے باوجود بقایا رقم ابھی تک ادا نہیں کی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کو درپیش سنگین معاشی مسائل کے باعث وزیر اعظم عمران خان اس معاملے کو حل کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر اٹھا سکتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…