اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے 55 ہزار افراد فائدہ اٹھایا

datetime 12  جولائی  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزرات خزانہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سابقہ حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے اب تک 55 ہزار 2 سو 25 افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔اس ضمن میں پاکستانی شہریوں کی جانب سے تقریباً 5 سو 77 ارب روپے مالیت کے غیر ملکی اثاثے ظاہر کیے جاچکے ہیں جبکہ اندرون ملک ظاہر کیے گئے۔

اثاثوں کی مالیت تقریباً ایک کھرب ایک سو 92 ارب روپے ہے۔اس کے علاوہ ظاہر کیے گئے اثاثوں پر اب تک تقریباً 97 ارب روپے ٹیکس بھی ادا کیا جاچکا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔حکومت کی نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے کس کا فائدہ کس کا نقصان؟واضح رہے کہ اس رقم میں سے 36 ارب غیر ملکی اثاثوں کی مد میں جبکہ 61 ارب روپے اندرونِ ملک موجود اثاثوں کی مد میں جمع کروائے گئے جبکہ 4 کروڑ ڈالر وطن واپس لائے گئے ہیں، اس سے قبل کسی ٹیکس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی میعاد میں توسیع کر کے آخری تاریخ 31 جولائی مقرر کردی گئی تھی۔ سرکاری سطح پر جاری بیان کے مطابق غیر ملکی اثاثوں کی مد میں ایمنسٹی اسکیم کا اطلاق منقولہ اور غیر منقولہ دونوں طرح کی جائیدادوں پر ہوتا ہے، جس میں بینک اکاؤنٹس، حصص اور رہن رکھی ہوئی جائیداد بھی شامل ہیں جبکہ ٹیکس کی شرح جائیداد کی اقسام کے لحاظ سے 2 فیصد سے 5 فیصد تک ہے۔ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے تحت قومی خزانے میں 80 ارب روپے جمعخیال رہے کہ 2 فیصد ٹیکس کی شرح خاص طور پر ان منقولہ اثاثوں پر لاگو ہوتی ہے جو وطن واپس منتقل کیے جائیں۔ دوسری جانب اندرون ملک موجود ہر طرح کی جائیداد اور آمدنی پر ٹیکس کی شرح بھی 2 فیصد سے 5 فیصد تک ہے۔ غیر ملکی اثاثوں پر ٹیکس کی ادائیگی کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے علیحدہ طریقہ کار متعارف کروایا گیا ہے جس میں مذکورہ رقم مخلتف ذرائع سے امریکی ڈالر کی شکل میں اسٹیٹ بینک میں جمع کروائی جاسکتی ہے۔ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے معیشت پر دباؤ کم ہوگا: مودیزیاد رہے کہ پاکستان، تنظیم برائے معاشی تعاون و ترقی (او ای سی ڈی) کے کثیر الجہتی کنوینشن پر دستخط کرچکا ہے

جس کی رو سے پاکستان میں مقیم افراد کے آف شور اکاؤنٹس کی معلومات تک رسائی رواں برس ستمبر سے حاصل ہوجائے گی۔اس کنوینشن پر دستخط کرنے سے وفاقی ریوینیو بورڈ کا دائرہ کار پاکستان میں رہنے والے شہریوں کے ان آف شور اکاؤنٹس تک وسیع ہوجائے گا جو کنوینشن میں شامل ممالک میں موجود ہوں گے۔صدر مملکت نے ٹیکس ایمنسٹی آرڈیننس پر دستخط کردیئےاس سلسلے میں 1992 میں متعارف کروائے گئے۔

تحفظ برائے اقتصادی اصلاحات کے قانون میں ضروری ترامیم بھی کی گئیں ہیں تا کہ زرمبادلہ کی نقل و حمل کو ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت منظم کیا جاسکے۔اس کے علاوہ انکم ٹیکس آرڈیننس میں بھی ترمیم کی گئی ہے جس کے بعد ایف بی آر ایک کروڑ سے زائد مالیت کے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذرائع کے بارے میں پوچھ گچھ کرسکتا ہے جبکہ غیر ملکی اثاثوں اور آمدنی کی تفتیش پر لگائی گئی 5 سال کی پابندی بھی ختم کردی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…