بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

کوڑے کرکٹ میں بیٹھے کتاب پڑھتے شامی بچے کی تصویر نے ہلچل مچا دی

datetime 17  جنوری‬‮  2022 |

بیروت (این این آئی)لبنان میں ایک دس سالہ شامی بچے حسین کی تصویر نے سوشل میڈیا پر لوگوں کے دل پگھلا دئیے۔ تصویر دیکھ کر لوگوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر ہمدردی دیکھنے میں آ رہی ہے اور وہ اس بچے کی مدد کے واسطے اس کا پتہ معلوم کرنے کے خواہاں ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق تصویر میں یہ بچہ حسین کچرے کے ایک ڈرم میں بیٹھا

نظر آ رہا ہے اور اس کے ہاتھوں میں کتاب ہے۔ یہ کتاب اس نے کچرے سے ہی نکالی تھی۔ حسین کی تصویر ایک نوجوان لبنانی انجینئر اور یونیورسٹی پروفیسر روڈرک مگامس نے اپنے کیمرے میں محفوظ کی۔ روڈرک نے حسین کو بیروت میں اپنے دفتر کے نزدیک دیکھا تو اس نے اس منظر کی تصویر لے لی۔روڈرک نے بتایا کہ اس نے حسین کو سات منٹ سے زیادہ وقت تک پورے شغف اور پیار کے ساتھ کتاب کے صفحات پلٹتے ہوئے دیکھا۔ خیال رہے کہ یہ کتاب بچوں کے لیے نہیں تھی۔روڈرک کے ساتھ بات سے حسین کے جو حالات سامنے آئے ان کے مطابق وہ بہت ذہین بچہ ہے۔ اسے پڑھائی پسند ہے اور وہ صبح کے وقت اسکول جاتا ہے۔ دوپہر کے بعد حسین خردہ اشیا جمع کرنے کا کام کرتا ہے تا کہ اپنے بیمار باپ اور چار بہنوں کی مدد کر سکے۔روڈرک کے مطابق وہ ایک سوسائٹی کے ساتھ مل کر حسین اور اس کے گھرانے کی مدد کے واسطے مطلوب مالی رقم جمع کرنے پر کام کر رہا ہے۔ اس شرط کے ساتھ کہ حسین دوبارہ سے خردہ اشیا جمع کرنے کا کام نہیں کرے گا اور اپنی تعلیم کے لیے پوری طرح فارغ ہو جائے گا۔روڈرک کے مطابق بہت سے لوگوں نے حسین کی مدد کے طریقہ کار کے حوالے سے استفسار کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…