بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

جب تک سود کا نظام ختم نہیں کیا جاتا ،معیشت تباہی کا شکار رہے گی ،سراج الحق

datetime 13  جنوری‬‮  2022 |

تیمرگرہ ( آن لائن ) امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے ملک میں سود کا نظام چل رہا ہے اور پوری قوم سودی کا روبار میں جکڑی ہوئی ہے جب تک سود کا نظام ختم نہیں کیا جاتا ،معیشت تباہی کا شکار رہے گی ، دنیا غیر سودی نظام کی جانب جارہی ہے جبکہ پاکستان میں سودی نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے ملک میں طویل المدت ترقیاتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے

جما عت اسلامی نے 200پی ایچ ڈی سکالر ز سے ملک کی مستقبل کے لئے جامع اور طویل لمدت منصوبہ بندی پر مشاورت شروع کردی ہے،انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن قدرتی آفات اور فوجی آپریشن سے متاثرہ علاقہ ہے ،فوری طور پر ملاکنڈ ڈویژن کو 2035تک ٹیکس فری زون قرار دیا جا ئے ،علاقہ میں کاروباری سر گرمیوں کو فروغ دینے کی بجا ئے حکومت کی جانب سے مقامی کرش پلانٹس ما لکان کی گرفتاریاں افسوس ناک ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے تیمرگرہ میاںبانڈہ میں سٹایلو شوز کمپنی کے برانچ کے افتتاح کے موقع پر بڑی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب سے سٹا ئیلوکی رینجل منیجر سیل محمدآصف، انجمن تاجران تیمرگرہ کے صدر حاجی انوارلدین ، چمبر آف کامرس لوئر دیر کے صدر قاضی واجد شعیب ، ملک راحت اللہ ، علی شاہ مشوانی، ملک شیر بہادر خان،ایم ڈی عبدلجبار مشوانی و دیگر نے بھی خطا ب کیا سراج الحق نے کہا کہ تیمرگرہ لوئر دیر میں تجارتی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ خوش ائیند ہے تیمرگرہ پانچ اضلاع کا بڑا تجارتی مرکز ہے سٹا ئلو لیڈیز شوز برانڈ کے کا روبار سے نہ صر ف مقامی لوگوں کو روزگار میسر ہوگا انھوں نے کہا انھوں نے کہا کہ پاکستان میں سود ی نظام چل رہا ہے پاکستان کا امدن 9ٹرلین ہے جبکہ 3.3 ٹرلین سود کی قرضوںمیںدیا جارہا ہیں انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں مسلم لیگ ن اور پی پی پی نے 31ہزار ارب کا قرضہ لیا تھا

جبکہ موجودہ حکومت نے پچاس ہزار ارب قرضہ لیا انھوں نے کہا کہ جب تک سودی نظام ختم نہیں کیا جاسکتا اس وقت تک سیاست ، جمہوریت،اور ملک کی بقا خطرہ میں ہوگاانھوں نے کہا کہ دنیا میں معاشی جنگ جاری ہے جبکہ ماضی میں ملکوں کے درمیان پانی پر جنگ ہوگا اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ مستقبل کے لئے ٹھوس اور طویل المدت منصوبہ بندی کی جائے انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک معاشی بدحالی کا شکار اور پاکستان پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا قبضہ ہے انھوںنے کہا کہ یہ ہمارا بد قسمتی ہے کہ ملک کی قسمت کی فیصلے ائی ایم ایف اور ورلڈ بینک کررہے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…