بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

جسٹس (ر) وجیہ الدین نے نظر ثانی شدہ اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کو گزشتہ حکومتی مسودے سے بہتر قرار دیدیا

datetime 13  جنوری‬‮  2022 |

کراچی (آن لائن) پاکستان قومی اتحاد کے چیئرمین جسٹس (ر) وجیہ الدین نے نظر ثانی شدہ اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کو گزشتہ حکومتی مسودے سے بہتر قرار دیا اور کہا کہ اس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ جو موجودہ اسٹیٹ بینک ترمیمی بل حکومت نے قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے وہ اس سے قبل کے مسودے سے بالکل مختلف ہے۔

لگتا ہے کہ ماہرین اور سول سوسائٹی کے اعتراضات کو قومی اسمبلی میں پیش کردہ بل میں کسی حد تک ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے، جو خوش آئند ہے۔ پھر بھی کئی باتیں ایسی ہیں جو اب بھی قابل توجہ ہوں گی۔ انہوں نے کہا بے شک رضا باقر موجودہ گورنر، دوہری شہریت کے حامل نہ ہوں مگر قانون میں دوہری شہریت رکھنے والے فرد پر پابندی ضرور ہونی چاہیئے۔ دوئم یہ کہ جیسے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے اپنی تجاویز میں کہا ہے کہ مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد گورنر اسٹیٹ بینک کو کم از کم دو سال کی مدت کیلئے ان اداروں کی ملازمت کا اہل نہ ہونا چاہیئے کہ جن سے گورنر کی حیثیت سے انہوں نے کسی قسم کا بھی کوئی رابطہ رکھا ہو۔ دیگر یہ کہ اسٹیٹ بینک کے گورنر کا بینک کے بورڈ کا چیئرمین بھی ہونا مفادات کے ٹکراؤ کے زمرے میں آتا ہے۔ یاد رہے کہ گورنر کی تنخواہ اور ملازمت کی شرائط و ضوابط بھی بینک کا بورڈ ہی متعین کرتا ہے۔ جبکہ اصولاً یہ حکومت کا استحقاق ہونا چاہیے۔ پاکستان میں دیگر بینکوں میں اس طرح کی چیئرمین شپ پر قانونی قدغن لگتی ہے۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک کے تین بڑے ذیلی ادارے ہیں، جن کا اول تو بہت ہی قلیل کورم (اشخاص کی مقررہ تعداد) رکھا گیا ہے۔ اور دوسری طرف کورم کے ضمن میں گورنر کا شامل ہونا لازمی بتایا گیا ہے، جو دونوں شقیں کارپوریٹ اصولوں سے متصادم ہیں۔

حالانکہ قانونی مسودے میں بینک کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ سال میں ایک سے زیادہ مرتبہ پارلیمنٹ میں اپنی رپورٹیں پیش کرے۔ مگر یہ کہیں نہیں لکھا کہ بینک پارلیمنٹ کو جوابدہ ہوگا۔ دیگر عوامل میں ایک یہ شق بھی شامل ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے فرائض سے متعلق اگر کوئی قانونی ترمیم لانا ہو تو اولاً بینک کی مشاورت وفاقی حکومت کیلئے ضروری ہوگی۔ یہاں مشاورت کی گنجائش تو بنتی ہے مگر ایک بنیادی شرط کے طور پر نہیں۔ مجموعی طور پر اسٹیٹ بینک ترمیمی بل ایک بہتر مسودہ ہے۔ مگر پارلیمنٹ میں اس پر مزید نظر ثانی کی ضرورت اب بھی موجود ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…