منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

مریضوں کے جگر پر آٹوگراف کرنے والے ڈاکٹر کا لائسنس منسوخ

datetime 13  جنوری‬‮  2022 |

لندن(این ای آئی ) برطانیہ میں طبی تاریخ کا ایک عجیب وغریب واقعہ ہوا ہے جس میں ایک ممتاز سرجن کی رجسٹریشن کینسل کی گئی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے دورانِ علاج دو مریضوں کے جگر پر اپنا نام یا نام کے الفاظ بطور آٹوگراف کندہ کئے تھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق سرجن سائمن بریم ہال کا نام بھی طبی رجسٹریشن سے نکال دیا گیا ہے جس کے

بعد وہ مزید کام نہیں کرسکتے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ مریضوں کے جگر کو اپنا برانڈ بنانا چاہتے تھے۔تفتیش کے دوران سائمن نے اعتراف کیا کہ انہون ںے 2013 میں ایک خاص آرگون بیم مشین سے دو مریضوں کے جگر پر اپنے دستخط کئے تھے۔ یہ واقعہ برمنگھم کوئن ایلزبتھ ہسپتال میں پیش آیا تھا جس میں سائمن نے شعوری طورپر اپنے علاج کو ایک برانڈ بنانے کی کوشش کی۔اس کے بعد ایک عرصے تک ان کا کیس چلتا رہا اور اب برطانیہ میں میڈیکل پریکٹیشنرز ٹرائبیونل سروس(ایم پی ٹی ایس)نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ فعل طبی غفلت اور خودپسندی کو ظاہر کرتا ہے۔ مقدمے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سیڈاکٹروں پر عوام کا اعتماد بھی کم ہوا ہے۔پھر دسمبر 2017 میں سائمن نے اعتراف کیا کہ کام کے دوران انہوں نے دو مرتبہ لوگوں یا مریضوں پر حملے کئے جس کے بعد ان پر 10 ہزار پونڈ کا جرمانہ عائد کیا گیا اور برمنگھم کران کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا تھا۔ اس کے بعد 2020 میں ان پر پانچ ماہ اپنے کام سے دور رہنے کی سزا

دی گئی تھی۔اس کے بعد میڈیکل پریکٹیشنرز ٹرائبیونل سروس نے ان پر پابندی کی درخواست عائد کرتے ہوئے اپنا موقف پیش کیا کہ اگرچہ جگر پر آٹوگراف کرنے سے مریضوں کو جسمانی طور پر تو کوئی نقصان نہیں ہوا لیکن اس سے دماغی صدمہ ضرور ہوا ہے۔اس موقف کے بعد سائمن پر رحم کی اپیل مسترد ہوئی اور تمام خدمات کے باوجود ان کا طبی لائسینس منسوخ کردیا گیا ہے اور انہیں فوری طور پر سبکدوش کردیا گیا ہے۔ تاہم عدالت نے اتنا ضرور کہا ہے کہ وہ 28 روز میں اپیل کرسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…