بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

پی ایس ایل کے ترانے کو غیر ضروری قراردیدیا گیا ،پاک بھارت باہمی سیریز سے متعلق بھی اہم تجویز سامنے آگئی

datetime 13  جنوری‬‮  2022 |

لاہور (این این آئی)پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز لاہور قلندرز کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے پی ایس ایل کے ترانے کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب ایسی تشہیری مہم کی ضرورت نہیں ہے،پاک بھارت باہمی سیریز یورپ یا امریکا میں کرانے کی طرف بڑھنا چاہیے۔ایک انٹرویو میں عاقب جاوید نے کہا کہ پی ایس ایل کے آغاز میں ایونٹ کی

تشہیر کے لیے ترانہ ضروری تھا تاہم اب پی ایس ایل میں لوگ بابر اعظم، شاہین آفریدی سمیت کرکٹرز کو ایکشن میں دیکھنا چاہتے ہیں، کرکٹرز سے بڑا کوئی اسٹار نہیں۔انہوں نے کہا کہ جس طرح کا ترانہ گزشتہ برس بنا اس سے کیا تشہیر ہوئی، اس لیے میرے خیال میں ترانہ بنا کر پیسہ ضائع نہیں کرنا چاہیے، پی ایس ایل کا ایک ہی ترانہ رہنا چاہیے، ہم نے بھی کئی ترانے بنائے لیکن جو پہلے مقبول ہوا اس جیسا کوئی دوسرا مقبول نہیں ہوا، اس لیے جو ترانہ مقبول ہو اسے رہنے دینا چاہیے۔سابق فاسٹ بولر عاقب جاوید نے رمیز راجا کی چار ملکی کرکٹ سیریز کرانے کی تجویز کو اچھا قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب سے وہ چیئرمین بنے ہیں انہوں نے کئی اچھی چیزیں کی ہیں اور کئی اچھی تجاویز بھی دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ رمیز راجا نے ٹیم کو اعتماد دیا، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سب نے ٹیم کو دیکھا کہ وہ اچھا کھیلی، انفرادی کارکردگی بھی کھلاڑیوں کی اچھی رہی ہے، ٹیم پر اعتماد کیا اور ٹیم نے رسپانس اچھا کیا اور اب چیئرمین

پراعتماد ہو کر آگے بڑھ رہے ہیں۔لاہور قلندرز کے ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ انگلینڈ، آسٹریلیا، بھارت اور پاکستان کو آپس میں کھیلنا چاہیے اور پاکستان میں بھی ٹیمیں آنی چاہیے، تاہم میرے خیال میں چار ملکی سیریز سے بڑھ اب پاک بھارت میچز کی شروعات کرنی چاہیے، اس حوالے سے بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہاکہ پاک بھارت باہمی سیریز یورپ یا امریکا میں کرانے کی طرف بڑھنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…