اسلام آباد (نیوز ڈیسک) کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی پاکستانی خاتون باکسر عابدہ بتول نے عالمی سطح پر ایک بڑا اعزاز حاصل کرتے ہوئے
ویمنز انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن (WIBA) کی عالمی ایٹم ویٹ چیمپئن شپ جیت لی۔ 26 سالہ عابدہ بتول یہ عالمی ٹائٹل اپنے نام کرنے والی پاکستان کی پہلی خاتون باکسر بن گئی ہیں، ان کی اس کامیابی کو ملکی خواتین باکسنگ کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔عابدہ بتول نے 31 اکتوبر کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں منعقدہ ’بریو ہارٹس‘ باکسنگ ایونٹ میں مقامی باکسر وانڈی سینونگ کھروٹ کے خلاف رنگ میں اتریں۔ ایف سی سی اسٹیڈیم میں ہونے والا یہ مقابلہ آٹھ راؤنڈز پر مشتمل تھا، تاہم پانچویں راؤنڈ کے دوران پیش آنے والے ایک حادثے کے باعث فائٹ ختم کرنا پڑی۔مقابلے کے دوران دونوں کھلاڑیوں کے سر ٹکرانے سے عابدہ بتول کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی، جس کے بعد رنگ سائیڈ پر موجود ڈاکٹر نے فائٹ روکنے کا فیصلہ کیا۔ مقابلہ ختم ہونے کے بعد ججز کے اسکور کارڈز کی مدد سے فاتح کا تعین کیا گیا۔ دو ججز نے پاکستانی باکسر کو برتری دی جبکہ ایک جج نے تھائی حریف کے حق میں فیصلہ سنایا۔ یوں عابدہ بتول نے اسپلٹ ٹیکنیکل فیصلے کے تحت عالمی ٹائٹل جیت لیا۔اس کامیابی کے پیچھے عابدہ بتول کی کئی برسوں پر محیط محنت اور مشکلات سے بھرپور جدوجہد شامل ہے۔
انہوں نے 2018 میں باکسنگ شروع کی، لیکن ابتدا ہی سے انہیں مالی مسائل اور گھر والوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم انہوں نے مشکلات کے سامنے ہار ماننے کے بجائے اپنی تربیت اور کھیل پر توجہ برقرار رکھی اور مسلسل محنت کے ذریعے عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔عابدہ بتول اس سے پہلے پاکستان کا قومی پروفیشنل باکسنگ ٹائٹل بھی جیت چکی ہیں۔ باکسنگ کے علاوہ وہ مکسڈ مارشل آرٹس، ووشو اور کک باکسنگ کے مقابلوں میں بھی حصہ لے چکی ہیں۔ رواں سال جنوری میں انہوں نے ڈبلیو بی سی ایشیا ایٹم ویٹ ٹائٹل کے لیے بھی مقابلہ کیا تھا، تاہم اس فائٹ میں انہیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔عالمی چیمپئن بننے کے بعد عابدہ بتول نے اپنے اہلِ خانہ، کوچ شارق خان، اسپانسرز اور پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا اور اس کامیابی کو ان کی حمایت اور تعاون کا نتیجہ قرار دیا۔ان کی یہ فتح پاکستان میں خواتین کی باکسنگ کے لیے ایک نمایاں سنگ میل ہے۔ خصوصاً بلوچستان اور کوئٹہ کی نوجوان لڑکیوں کے لیے عابدہ بتول کی کامیابی ایک مثال بن گئی ہے، جو انہیں کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھنے اور اپنے خواب پورے کرنے کا حوصلہ دے گی۔



















































