منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

کرکٹر نسیم شاہ کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ، 3 مشتبہ افراد گرفتار –

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

لوئر دیر (این این آئی)پاکستانی کرکٹر نسیم شاہ کے گھر پر رواں ماہ لوئر دیر کے علاقے میاڑ میں ہونے والے حملے کے سلسلے میں تین مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔یہ حملہ 10 نومبر کی صبح سویرے کیا گیا تھا، جب نامعلوم مسلح افراد نے تقریباً 1 بجکر 45 منٹ پر کرکٹر کے گھر کے مرکزی دروازے پر فائرنگ کی۔ فائرنگ سے دروازوں، دیواروں اور کھڑکیوں پر گولیوں کے نشانات بن گئے تھے۔ حملہ آور فوراً فرار ہو گئے تھے، تاہم نسیم شاہ کے اہل خانہ حملے میں محفوظ رہے تھے۔

پولیس حکام کے مطابق ایک خصوصی پولیس ٹیم نے کیس کی تفتیش کی جس کی قیادت سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) انویسٹی گیشنز راشد احمد خان کر رہے تھے، اور جس میں سب ڈویڑنل پولیس آفیسر (ایس ڈی پی او) جندول سرکل علیم خان، اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) میاڑ پولیس اسٹیشن ادریس خان، اور چیف انفارمیشن آفیسر (سی آئی او) حیات محمد خان شامل تھے۔اطراف کے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کا جائزہ لینے کے بعد، پولیس کا کہنا ہے کہ نسیم کے والد ظفر شاہ کی جانب سے نامزدگی کے بعد تینوں مشتبہ افراد کی شناخت کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔تفتیش کے دوران، پولیس کے مطابق، تینوں نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا، جبکہ حملے کی وجہ مقامی خاندانوں کے درمیان حالیہ زمین کے تنازع سے جڑی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ایک اہلکار نے بتایاکہ واقعے سے چند روز قبل زمین کے معاملے پر اختلاف شدت اختیار کر گیا تھا۔ حملے کے دن بھی ایک فریق تنازع والی زمین پر گندم کی کاشت کر رہا تھا کہ مخالف فریق نے مبینہ طور پر فائرنگ کر دی چونکہ نسیم کی والدہ کے رشتہ دار ان فریقین میں سے ایک خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، اسی لیے کرکٹر کے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے بتایا کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے کرکٹر کے گھر کے گرد سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔علاقہ مکینوں نے نسیم شاہ کے خاندان کو باعزت اور قانون کا احترام کرنے والا قرار دیتے ہوئے پولیس کی بروقت کارروائی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ایک رشتہ دار نے کہا، ”گرفتاریوں سے ہمارے علاقے میں کچھ سکون آیا ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…