ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

حسن علی نے ”کنگ کرلے گا” جملہ کیوں کہا تھا؟ وضاحت سامنے آگئی

datetime 10  جولائی  2025 |

کراچی(این این آئی)پاکستان ٹیم کے فاسٹ بولر حسن علی نے کہا کہ بابر اعظم نے اپنی کارکردگی اور رویے سے ثابت کیا کہ وہ اس دور کے سب سے بہترین بیٹر ہیں، ہم سب نے ہی انھیں ”کنگ” کا لقب دیا۔کرکٹ ویب سائٹ کو خصوصی انٹرویو میں حسن علی نے کہا کہ اگرچہ وہ بدقسمتی سے ٹرافی نہیں جیت سکے لیکن پاکستان کے بہترین کپتانوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔انہوں نے ایک بار پھر اپنے مشہور جملے ”کنگ کرلے گا” کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ جملہ صرف زبان نہیں بلکہ دل سے نکلا تھا۔ ویرات کوہلی، کین ولیمسن، اسٹیو اسمتھ اور جو روٹ جیسے بڑے کھلاڑی ان کی بیٹنگ کی تعریف کرتے ہیں، اگر آپ کسی سے پوچھیں کہ بابر کا کور ڈرائیو بہتر ہے یا کوہلی کا تو اکثر لوگ بابر کو ترجیح دیتے ہیں۔

حسن علی نے کہا کہ میرا اور بابر کا ڈیبیو ایک ہی وقت ہوا، میں نے انھیں کرکٹ میں اْبھرتے، رنز بناتے اور محنت کرتے دیکھا، وہ پاکستان کرکٹ کے بادشاہ ہیں۔ایک سوال ک کے جواب میں فاسٹ بولرنے کہا کہ مستقبل میں ٹی ٹوئنٹی یا ون ڈے کو چھوڑ سکتا ہیں لیکن جب تک فٹنس ہے ٹیسٹ کرکٹ نہیں چھوڑوں گا۔حسن علی نے کہا کہ جو مشکل وقت میں نے دیکھا اور محنت کی اب اس کا صلہ مل رہا ہے، انگلینڈ میں ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ کے دوران بولنگ ردھم اچھا اور فٹنس بھی زبردست ہے، سب کچھ درست سمت میں جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ میری ذمہ داری پرفارم کرنا ہے جبکہ ٹیم میں شمولیت پی سی بی، کپتان اور مینجمنٹ کی صوابدید ہے، میری کوچ اور کپتان سے بات چیت ہوئی، انہوں نے واضح پلان دیا جس پر عمل کر رہا ہوں۔فاسٹ بولر نے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ نے مجھے مستقبل کے لیے مثبت اور واضح ہدایات دی ہیں، جب کھلاڑی کو مینجمنٹ کی طرف سے واضح پیغام ملے تو اس میں اعتماد آتا ہے، اگرچہ دباؤ بھی بڑھ جاتا ہے لیکن میرے لیے معاملات واضح ہونا خوشی کی بات ہے۔

ایک سوال پر حسن علی نے کہا کہ میں تینوں فارمیٹس کھیلنا چاہتا ہوں، ٹی ٹوئنٹی میں پیسہ اور گلیمر کے ساتھ دباؤ بھی کم ہوتا ہے، دنیا بھر میں بہت زیادہ لیگز ہیں، اگر آپ سال میں 3 یا 4 بھی کھیل لیں تو کافی رقم کما لیتے ہیں، البتہ اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو ریڈ بال کرکٹ میری محبت ہے، میں چاہے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے سے ریٹائر ہو جاؤں لیکن جب تک فٹنس ہے میں ٹیسٹ چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، ٹیسٹ میں پرفارم کرنا ہی اصل امتحان ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…