ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ایشیا کپ 2025 کا شیڈول سامنے آ گیا، لیکن کیا پاکستان کھیل پائے گا؟

datetime 28  جون‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے زیرِ اہتمام ہونے والے اگلے ایشیا کپ 2025 کے انعقاد کی ممکنہ تاریخیں 12 سے 28 ستمبر کے درمیان طے کی جا رہی ہیں۔ اگرچہ بھارت کو اس ٹورنامنٹ کی میزبانی سونپی گئی ہے، لیکن موجودہ سفارتی اور کرکٹ تعلقات کو مدِنظر رکھتے ہوئے متحدہ عرب امارات کو شریک میزبان مقرر کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاکہ پاکستان کے میچز غیر جانبدار مقام پر کھیلے جا سکیں۔

ابتدائی طور پر سری لنکا اور یو اے ای دونوں کو شریک میزبانی کے امیدوار کے طور پر زیر غور لایا گیا تھا، لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ صورتحال کی روشنی میں دبئی کو زیادہ موزوں قرار دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اس مثال کی بنیاد پر بھی سامنے آیا ہے کہ 2025 کی چیمپیئنز ٹرافی میں بھارت کے میچز بھی ممکنہ طور پر متحدہ عرب امارات میں رکھے جا سکتے ہیں۔

گزشتہ ماہ ایسی خبریں منظرِ عام پر آئیں کہ بھارت اس ایونٹ میں شرکت نہیں کرے گا، تاہم بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے ان دعوؤں کو فوری طور پر مسترد کر دیا۔ اس کے برعکس حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک پروموشنل پوسٹر نے نئی بحث چھیڑ دی، جس میں صرف بھارت اور سری لنکا کی ٹیموں کو دکھایا گیا، جبکہ پاکستان کی غیر موجودگی نے شکوک و شبہات کو جنم دیا۔

یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے کرکٹ بورڈز کے مابین ایک معاہدہ موجود ہے جس کے تحت دونوں ٹیمیں صرف آئی سی سی یا ایشین کرکٹ کونسل کے تحت ہونے والے نیوٹرل ایونٹس میں ہی ایک دوسرے کے مدمقابل آتی ہیں۔ اس بنیاد پر بھارت میں پاک بھارت میچز کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔

بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیواجیت سیکیا نے حالیہ بیان میں ان تمام قیاس آرائیوں کو رد کرتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت کی ایشیا کپ سے علیحدگی پر نہ کوئی غور ہو رہا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف کھیلنے کا انحصار حکومت کی اجازت پر ہے، اور ایشیا کپ میں شمولیت کا حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب آئی سی سی نے ویمنز ورلڈ کپ 2025 کے لیے پاکستان اور بھارت کو ایک ہی گروپ میں شامل کیا، تو نہ پی سی بی اور نہ ہی بی سی سی آئی نے اس پر کوئی اعتراض اٹھایا، جسے ماہرین کرکٹ تعلقات میں نرمی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے بورڈز کسی بھی ممکنہ بائیکاٹ سے پیدا ہونے والے بین الاقوامی اثرات سے آگاہ ہیں، کیونکہ اس قسم کی کوئی بھی کارروائی آئندہ آئی سی سی یا اے سی سی مقابلوں میں ان کی شرکت کو متاثر کر سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…