ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

وہ کونسی عام غلطی ہے جس کے باعث جان سینا کو 2 بار کینسر کا سامنا ہوا

datetime 27  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)معروف ریسلر اور ہالی ووڈ اداکار جان سینا نے انکشاف کیا ہے کہ وہ زندگی میں دو بار جِلد کے کینسر کا سامنا کر چکے ہیں۔ وہ اب عوام کو سورج کی مضر شعاعوں سے بچنے کے لیے سن اسکرین کے استعمال کی اہمیت سے آگاہ کر رہے ہیں۔48 سالہ ریسلر، جو 17 بار ڈبلیو ڈبلیو ای کے چیمپیئن رہ چکے ہیں، نے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ ماضی میں وہ سورج سے تحفظ کے لیے سن اسکرین لگانے کو معمولی سمجھتے تھے، مگر جِلدی کینسر کی دو بار تشخیص نے ان کی سوچ بدل دی۔

جان سینا کے مطابق، پہلی مرتبہ ان کے سینے پر ایک معائنے کے دوران مشتبہ نشان پایا گیا، جبکہ ایک سال بعد کمر پر دوسرا کینسر زدہ نشان دریافت ہوا۔ دونوں بار میڈیکل رپورٹس سے تصدیق کے بعد انہیں علاج کے مراحل سے گزرنا پڑا۔انہوں نے بتایا: “مجھے دونوں مرتبہ ڈاکٹرز کی جانب سے فون آیا کہ ٹیسٹ کے نتائج میں کینسر کی علامات دیکھی گئی ہیں۔ یہ واقعات میرے لیے زندگی کا ایک نیا موڑ تھے۔”اب وہ خود بھی سن اسکرین باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں اور دوسروں، خصوصاً مردوں کو اس حوالے سے زیادہ سنجیدگی اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اکثر مرد جِلدی نگہداشت کو غیر ضروری سمجھتے ہیں، جو کہ ایک خطرناک غفلت ہے۔طبی ماہرین بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ جب جان سینا جیسے معروف شخصیات کینسر جیسے سنجیدہ موضوعات پر بات کرتے ہیں تو اس سے لوگوں میں بیداری پیدا ہوتی ہے، اور وہ بروقت طبی مشورہ لینے میں ہچکچاتے نہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جِلد کے کینسر کی بڑی وجہ سورج کی شعاعوں سے نکلنے والی الٹرا وائلٹ (UV) ریز ہوتی ہیں جو جِلد کے خلیات میں ڈی این اے کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ سن اسکرین ان شعاعوں کو جذب یا روک کر اس نقصان سے بچاؤ فراہم کرتی ہے۔ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ سن اسکرین صرف چہرے یا بازوؤں پر ہی نہیں بلکہ کانوں، گردن اور ہاتھوں جیسے تمام کھلے حصوں پر بھی باقاعدگی سے لگائی جائے، اور جِلد پر کسی بھی نئی تبدیلی پر فوری توجہ دی جائے۔جان سینا کی مثال واضح کرتی ہے کہ جِلدی کینسر کسی کو بھی لاحق ہو سکتا ہے، لیکن اس سے بچاؤ کے اقدامات آسان اور مؤثر ہو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…