منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سلیکٹر کی چار روزہ میچ نہ کھیلنے کی ”حکم عدولی” شاہین کو مہنگی پڑگئی

datetime 27  دسمبر‬‮  2024 |

لاہور(این این آئی)سلیکٹر کی حکم عدولی شاہین آفریدی کو مہنگی پڑگئی، پیسر کو چار روزہ میچ کھیلنے سے گریز پر ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔تفصیلات کے مطابق شاہین شاہ آفریدی کو عمدہ فارم کے باوجود جنوبی افریقا سے ٹیسٹ سیریز میں موقع نہیں دیا گیا، انھوں نے ون ڈے سیریز میں سب سے زیادہ 7 وکٹیں لے کر ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہین کو اسکواڈ کا اعلان ہونے سے قبل ایک سلیکٹر نے فون کر کے چار روزہ میچ کھیلنے کا کہا، وہ بعض وجوہات کی بنا پر ایسا نہ کر پائے، اسے حکم عدولی سمجھتے ہوئے انھیں ٹیسٹ اسکواڈ سے ہی باہر کردیا گیا، اسی قسم کی ہدایت بابراعظم کو بھی ملی تھی جس پر انھوں نے بھی عمل نہ کیا مگر وہ ٹیم میں شامل ہوگئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک سلیکٹر کے رویے سے قومی کرکٹرز خوش نہیں ہیں، وہ کچھ عرصے قبل ہی ریٹائر ہوئے لیکن اپنے ساتھ کھیلنے والوں کے ساتھ ہی ان کا رویہ حکمانہ ہوتا ہے۔قریبی ذرائع نے مزید بتایا کہ شاہین بدستور ریڈ بال کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں اور دورئہ جنوبی افریقا کے اسکواڈ میں عدم انتخاب پر انھیں دھچکا لگا تھا، ون ڈے میچز کے بعد واپسی سے قبل بھی انھوں نے ٹیم مینجمنٹ کو پیشکش کی تھی کہ اگر وہ چاہے تو وہ ٹیسٹ میچز کیلیے بھی رک سکتے ہیں مگر کسی نے انھیں روکنے کی زحمت گوارا نہ کی۔جنوبی افریقا کیخلاف سنچورین ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم میں لیفٹ آرم فاسٹ بولر کی کمی محسوس ہوئی، میر حمزہ کو بھی چار منتخب پیسرز میں شامل نہیں کیا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شاہین آفریدی کو ورک لوڈ مینجمنٹ کے نام پر ٹیسٹ اسکواڈ میں منتخب نہیں کیا گیا اور بنگلادیش پریمیئر لیگ میں شرکت کی اجازت دے دی گئی، 30 دسمبر کو شروع ہونے والے ایونٹ میں وہ فورچیون بریشال کی نمائندگی کریں گے، انھیں 15 جنوری تک کا این او سی ملا ہے، وہ 5 میچز میں حصہ لیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…