جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے ہائبرڈ ماڈل کے انکار کے بعد بھارتی براڈ کاسٹر کی آئی سی سی کو وارننگ

datetime 6  دسمبر‬‮  2024 |

نئی دہلی (این این آئی)پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی 2025 میں بھارت کی ہٹ دھرمی کے سبب غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔بھارت پاکستان کی میزبانی میں چیمپئنزٹرافی ہائبرڈ ماڈل پر کروانے پر بضد ہے جس کے تحت چیمپئنز ٹرافی میں بھارت اپنے میچز دبئی میں کھیلے گا جب کہ پاکستان نے بھارت کے ہائبرڈ ماڈل کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔

چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کیلئے اس غیر یقینی صورتحال کے دوران براڈکاسٹر اسٹار انڈیا کا چند ماہ قبل آئی سی سی کو لکھا گیا ایک خط سامنے آیا ہے جس میں بھارتی ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر کرنے سے ہونے والے مالی نقصان پر روشنی ڈالی گئی ہے۔آئی سی سی کو لکھے گئے خط میں واضح کیا گیا ہے کہ’ بھارتی ٹیم شائقین میں سب سے زیادہ مقبولیت رکھتی ہے اور آئی سی سی کیلئے سب سے زیادہ ریونیو پیدا کرتی ہے، بھارتی بورڈ( بی سی سی آئی) سکیورٹی خدشات کے سبب چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے پاکستان جانے سے انکاری ہے’۔آئی سی سی کو لکھے گئے خط میں بھارت کے ہائبرڈ ماڈل کی پیشکش پر پی سی بی کے انکار اور فارمولے کو رد کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔خط کے مطابق’ بی سی سی آئی نے پی سی بی کے مطالبے پر اعتراض کیا ہے، ساتھ ہی آئی سی سی کی جانب سے بھی ان مطالبات کو قبول کیے جانے کا امکان کم ہے، توقع ہے کہ آئی سی سی بھارت کے میچز پاکستان سے باہر کروانے کیلئے پی سی بی کو اضافی رقم ادا کرے گا’۔

اسٹار انڈیا کے خط میں واضح کیا گیا ہے کہ’ ٹیم انڈیا آئی سی سی ٹورنامنٹ کا لازمی حصہ ہے، اگر آئی سی سی کو بی سی سی آئی اور پی سی بی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو آئی سی سی کا انتخاب بی سی سی آئی ہوگا’۔اسٹار انڈیا کے خط میں اپنے مؤقف کی وضاحت کیلئے بتایا گیا ہیکہ’چیمپئنز ٹرافی کے میڈیا رائٹس کی مجموعی قیمت 750 ملین امریکی ڈالر ہے، اگر بھارت ٹورنامنٹ سے باہر ہو تا ہے تو آئی سی سی کو 750 امریکی ڈالر میں سے 90 فیصد کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا جب کہ پاکستان کی غیر موجودگی سے صرف یہ نقصال صرف 10 فیصد ہوگا’۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…