پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

2031 تک بھارت 4 ایونٹس کا میزبان، پاکستان کے بائیکاٹ پر تمام بورڈزکو بھاری نقصان کا امکان

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

لندن (این این آئی)آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع شدت اختیار کرنے کی صورت میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور اس کی فنڈنگ پر انحصار کرنے والے بورڈز کو شدید نقصان ہوگا۔ذرائع کے مطابق بھارت کے مسلسل سخت رویے کے خلاف پاکستان کی پالیسی موجودہ آئی سی سی سائیکل کے مالی معاملات پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔ بھارت کی جانب سے مسلسل پاکستان آکر کھیلنے سے انکار کے بعد پاکستانی حکومت نے بھی معاملات درست نہ ہونے تک کسی بھی ایونٹ کے لیے ٹیم بھارت بھیجنے اور کسی اور مقام پر بھی بھارت سے میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت پاکستان کے فیصلے کے بعد آئی سی سی میں بھی ہلچل ہے کیوں کہ انہیں اندازہ ہے کہ پاکستانی فیصلہ کس طرح انٹرنیشنل کرکٹ کو متاثر کرسکتا ہے۔ بھارت کو 2024 سے 2031 کے دوران 4 آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی کرنی ہے، جن میں 2025 چیمپئنز ٹرافی، 2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ، 2029 ون ڈے ورلڈکپ اور 2031 ورلڈکپ شامل ہیں۔پاکستان کی جانب سے ان ایونٹس سے دستبردار ہونے کا براہ راست اثر آئی سی سی کے براڈکاسٹ ریونیو پر پڑ سکتا ہے جو کہ آئی سی سی کے تمام رکن بورڈز کی آمدن میں تقسیم ہوتا ہے۔آئی سی سی نے 2023 سے 2027 تک کے براڈکاسٹ حقوق 3.2 بلین ڈالرز میں فروخت کیے ہیں اور پاکستان کے میچز کے بغیر یہ حقوق اپنی قیمت کھوسکتے ہیں۔

یہ کمی آئی سی سی کے مجموعی ریونیو پر اثر ڈالیگی، جس سے تمام بورڈز کو نقصان پہنچے گا۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ذرائع کا کہنا ہیکہ کرکٹ کے لیے پاکستان اور بھارت کا آپس میں مقابلہ بہت ضروری ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ کی اہمیت کا اندزہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہیکہ آئی سی سی اس بات کو یقینی بناتا ہیکہ اس کے ہر ایونٹ میں کم از کم ایک بار پاکستان اور بھارت کا مقابلہ ضرور ہو۔گزشتہ چند سالوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچز نے شائقین کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، جس کے باعث آئی سی سی ہر بڑے ایونٹ میں ان دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ یقینی بناتا ہے۔

تاہم اگر یہ میچز نہ ہو سکے تو نہ صرف آئی سی سی بلکہ اس کے براڈکاسٹرز کو بھی مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔پاکستانی حکومت کی موجودہ سخت پوزیشن کے بعد آئی سی سی میں بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر یہ تنازع بروقت حل نہ ہوا تو مستقبل کے ایونٹس اور ان کی کامیابی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اب پاکستانی جواب کا منتظر ہے اور پاکستان کا یہ کہنا ہے ہمیں ہماری حکومت نے بھارت کے ساتھ کھیلنے سے منع کردیا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…