جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کے بیروزگار فرسٹ کلاس کرکٹر ریڑھی پر پھل بیچنے لگے، وزیراعظم یہ کام کریں گے تو کھلاڑیوں کو فائدہ ہو گا

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن)وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق ملک سے ادارہ جاتی کرکٹ ٹیموں کو ختم کرنے سے بہت سارے فرسٹ کلاس کرکٹر بے روز گار ہوئے۔ان میں لاہور سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ بائیں ہاتھ کے سپنر اور دائیں ہاتھ کے بلے باز حیدر علی بھی شامل ہیں جو اب اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے کے لیے پھلوں کی ریڑھی لگا رہے ہیں۔انہوں نے ایک انٹرویو میں

وزیراعظم عمران خان سے ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی بحالی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے اس اقدام سے ان جیسے ہزاروں کرکٹرز کے گھروں کا چولہا جل سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ 6 سال سے ایک ادارے کی طرف سے کھیل رہے ہوں اور تنخواہ لے رہے ہوں تو آپ کے گھر کا سسٹم چل رہا ہوتا ہے لیکن اچانک اگر یہ سب چیزیں بند ہوجائیں تو کوئی کھلاڑی اوبر چلاتا ہے،کوئی ریڑھی لگاتا ہے اور کوئی لکڑی کا کام کرتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ آپ کی بچت بھی صرف 4 سے 5 ماہ ہی چلتی ہے، ان کے گھر میں کوئی اور کمانے والا بھی نہیں ہے اور ساری ذمہ داری بھی انہی کے کندھوں پر ہے۔حیدر علی کا مزید کہنا تھا کہ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم ہونے کے بعد میں نے اپنے پاس موجود کچھ رقم سے یہ ریڑھی لگائی، روز صبح منڈی جاکر پھل خرید کر لاتا ہوں اور بیچتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا ہم کرکٹرز کا کوئی قصور نہیں ہے، اگر وزیراعظم عمران خان ڈیپارٹمنٹل کرکٹ بحال کریں گے تو صرف میرا نہیں بلکہ اور کھلاڑیوں کا بھی فائدہ ہوگا جو اس وقت مالی طور پر جدوجہد کررہے ہیں،وہ سب اچھے کھلاڑی ہیں اور کسی کی سفارش پر نہیں آئے۔حیدر علی کاکہنا تھا کہ انہوں نے 15-2014 میں فرسٹ کلاس کیریئر کا آغاز کیا اور سوئی نادرن گیس کمپنی (ایس این جی پی ایل) اور زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ (زیڈ ٹی بی ایل) کی نمائندگی کی۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے شاندار کرکٹ کیریئر کو

مثال بناتے ہوئے ہمیشہ اس موقف کے حامی رہے ہیں کہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرکے کرکٹ علاقائی بنیادوں پر ہونی چاہیے کیونکہ اس طرح نئے ٹیلنٹ کو موقع ملتا ہے اور کرکٹ کے دلچسپ مقابلے دیکھنے کو ملتے ہیں۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…