ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

پاکستان کے بیروزگار فرسٹ کلاس کرکٹر ریڑھی پر پھل بیچنے لگے، وزیراعظم یہ کام کریں گے تو کھلاڑیوں کو فائدہ ہو گا

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور (آن لائن)وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق ملک سے ادارہ جاتی کرکٹ ٹیموں کو ختم کرنے سے بہت سارے فرسٹ کلاس کرکٹر بے روز گار ہوئے۔ان میں لاہور سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ بائیں ہاتھ کے سپنر اور دائیں ہاتھ کے بلے باز حیدر علی بھی شامل ہیں جو اب اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے کے لیے پھلوں کی ریڑھی لگا رہے ہیں۔انہوں نے ایک انٹرویو میں

وزیراعظم عمران خان سے ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی بحالی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے اس اقدام سے ان جیسے ہزاروں کرکٹرز کے گھروں کا چولہا جل سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ 6 سال سے ایک ادارے کی طرف سے کھیل رہے ہوں اور تنخواہ لے رہے ہوں تو آپ کے گھر کا سسٹم چل رہا ہوتا ہے لیکن اچانک اگر یہ سب چیزیں بند ہوجائیں تو کوئی کھلاڑی اوبر چلاتا ہے،کوئی ریڑھی لگاتا ہے اور کوئی لکڑی کا کام کرتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ آپ کی بچت بھی صرف 4 سے 5 ماہ ہی چلتی ہے، ان کے گھر میں کوئی اور کمانے والا بھی نہیں ہے اور ساری ذمہ داری بھی انہی کے کندھوں پر ہے۔حیدر علی کا مزید کہنا تھا کہ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم ہونے کے بعد میں نے اپنے پاس موجود کچھ رقم سے یہ ریڑھی لگائی، روز صبح منڈی جاکر پھل خرید کر لاتا ہوں اور بیچتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا ہم کرکٹرز کا کوئی قصور نہیں ہے، اگر وزیراعظم عمران خان ڈیپارٹمنٹل کرکٹ بحال کریں گے تو صرف میرا نہیں بلکہ اور کھلاڑیوں کا بھی فائدہ ہوگا جو اس وقت مالی طور پر جدوجہد کررہے ہیں،وہ سب اچھے کھلاڑی ہیں اور کسی کی سفارش پر نہیں آئے۔حیدر علی کاکہنا تھا کہ انہوں نے 15-2014 میں فرسٹ کلاس کیریئر کا آغاز کیا اور سوئی نادرن گیس کمپنی (ایس این جی پی ایل) اور زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ (زیڈ ٹی بی ایل) کی نمائندگی کی۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے شاندار کرکٹ کیریئر کو

مثال بناتے ہوئے ہمیشہ اس موقف کے حامی رہے ہیں کہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرکے کرکٹ علاقائی بنیادوں پر ہونی چاہیے کیونکہ اس طرح نئے ٹیلنٹ کو موقع ملتا ہے اور کرکٹ کے دلچسپ مقابلے دیکھنے کو ملتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…